عوام پر مہنگی بجلی کا ایک اور بم گرنے کو تیار

عوام پر مہنگی بجلی کا ایک اور بم گرنے کو تیار

(سٹی 42) سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ 36 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دے دی۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ستمبر کے لیے دی گئی ہے۔ ستمبر میں بجلی کی ریفرنس فیول لاگت 2 روپے 84 پیسے فی یونٹ رہی۔ بجلی کی قیمت میں اضافے سے صارفین پر 53 ارب 56 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ نیپرا سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت 29 اکتوبر کو اسلام آباد میں کرے گا۔

 دوسری جانب نیپرا نے بجلی کے موجودہ نظام کو نقائص سے بھرپور قرار دےدیا۔ نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2020 جاری کر دی۔  رپورٹ کے مطابق پاور پلانٹس کو مکمل صلاحیت پر نہ چلانے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی۔  رپورٹ میں بجلی کمپنیوں کی وصولیوں میں کمی سے  مہنگی بجلی پیدا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

نیپرا نے کہا کہ مالی سال 2019-20 میں وصولیوں کی شرح میں 1.48 فیصد کمی ہوئی۔کورونا کی وجہ سے پاور سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ نیپرا نے بجلی کے ترسیلی نظام کو ایک بار پھر ناقص قرار دیدیا۔ نیپرا نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے صارفین کا بجلی کمپنیوں پر اعتماد کم ہو رہا ہے۔ بجلی صارفین نیٹ میٹرنگ کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ نیپرا نے ملک میں بجلی کی پیداواری لاگت کم کرنے پر زور دیا۔