سٹی42: آج جنوبی پنجاب کے دو انتخابی حلقوں میں ضمنی الیکشن ہو رہا ہے، ضمنی الیکشن عموماً سرسری نوعیت کی عوامی توجہ حاصل کرتے ہیں لیکن آج اتوار کے روز ہونے والی ضمنی الیکشن کو جنوبی پنجاب کی مہابھارت تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ اس ضمنی الیکشن سے یہ طے ہو گا کہ اب ڈیرہ غازہ خان اور مظفر گڑھ کس پارٹی کے ساتھ جائیں گے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ سرائیکی وسیب میں کس کا جھنڈا لہرائےگا۔
یہاں بطاہر مقابلہ تین پارٹیوں پی ٹی آئی، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان ہے۔ پولنگ کا نتیجہ بتائے گا کہ جنوبی پنجاب اور سرائیکی وسیب کےعوام نے نو مئی سانحہ میں ملوث پائے گئے دو اہم سیاستدانوں کو سنائی گئی سزاؤں کو کس طرح لیا ہے اور اب وہ پی ٹی آئی کے متعلق کیسے سوچتے ہیں۔
اس ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے کوئی امیدوار الیکشن نہیں لڑ رہا کیونکہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن نہ کروانے کے سبب اب تک پارٹی کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کی اہل قرار نہیں پائی تاہم پی ٹی آئی کے غیر رسمی نامزد امیدواروں کو اس پارٹی کے ووٹر بخوبی پہچانتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے جنوبی پنجاب میں فروری2024 کے الیکشن میں اچھی کیمپین کی تھی لیکن بہت سے حلقوں میں وہ مسلم لیگ نون یا پی ٹی آئی کے ہیوی ویٹ امیدواروں سے دب گئی تھی۔ اس ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی خود ایک ہیوی ویٹ امیدوار کو میدان میں لائی ہے۔ فروری کا الیکشن جیتنے والے جنوبی پنجاب کے سرخیل رہنما یوسف رضا گیلانی کو پیپلز پارٹی نے سینیٹ کا چئیرمین بنایا، تاہم الیکشن جیتنے کے بعد سے اب تک پیپلز پارٹی نے وسیب میں عملاً کچھ ڈیلیور نہیں کیا۔
سیلاب کے بعد پہلا الیکشن
حالیہ سیلاب کے دوران مسلم لیگ نون کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی پرفارمنس اور بلاول بھٹو کی سیاسی مینوورنگ اور کسانوں کے مسائل کی آرٹیکولیشن کو عوام نے کیسے لیا، آج کے پولنگ میں اس کا پتہ چلے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: فارم45لےکرنکلنا؛ بلاول نے ضمنی الیکشن کیلئے ہدایت بھیج دی
این اے 185 ڈیرہ غازی خان
حلقہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان II پر ضمنی انتخاب صبح 23 نومبر بروز اتوار ہونا ہے۔
اس نشست سے پی ٹی آئی کی سابق وزیر زرتاج گل 8 فروری 2024 کے الیکشن میں جیتی تھیں۔ زرتاج گل اس الیکشن کے وقت بھی 9 مئی 20243 کے سانحہ سے متعلق مقدمات میں ملزمہ تھیں لیکن ان کو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے سے نہیں روکا گیا تھا۔ بعد میں مقدمات میں سے ایک کا فیصلہ ہوا تو زرتاج گل مجرم قرار پائیں اور انہیں قید کی سزا سنا دی گئی۔
زرتاج گل کو سزا ہونے کے بعد۔۔۔
زرتاج گل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد این اے185 میں ضمنی انتخاب کی ضرورت پڑی۔ ای سی پی نے ابتدائی طور پر ضمنی انتخابات کے لیے ایک مختلف شیڈول جاری کیا تھا لیکن بعد میں عدالتوں کے حکم امتناعی کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے 23 نومبر 2025 کی نئی پولنگ تاریخ کے ساتھ انتخابی عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
صبح ہونے والے ضمنی الیکشن میں NA-185 ڈیرہ غازی خان-II میں سرکردہ امیدوار محمود قادر خان لغاری (PML-N) اور سردار دوست محمد خان کھوسہ (PPP) ہیں، جو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی نسبت ممکنہ طور پر مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔
اس نشست کے اہم دعویدار یہ ہیں
محمود قادر خان لغاری: پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔آج شام تک حلقہ کے حالات کے تجزیہ میں انہیں پرائمری امیدواروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) کو سخت مقابلے کی توقع ہے۔

سردار دوست محمد خان کھوسہ: صبح ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
سردار دوست محمد کھوسہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ سرہ چکے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ مسلم لیگ نون میں رہتے ہوئے رہے تھے، بعد میں پارٹی کی قیادت سے اختلاف کے سبب وہ مسلم لیگ نون چھوڑ گئے ، کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد وہ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما کی حیثیت سے ڈیرہ کی سیاست میں دوبارہ ابھرے۔ دوست محمد کھوسہ کا اور مسلم لیگ نون کے امیدوار کا کچھ ووٹ بینک مشترک ہے؛ یہ وہ کس کی طرف جاتے ہیں، اس کا پتہ صبح پولنگ ہو گی تب ہی چلے گا۔ توقع ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو سخت چیلنج دیں گے۔

ایک آزاد امیدوار (ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ): پی ٹی آئی کے نشان کے تحت انتخاب نہ لڑنے کے دوران (جسے پارٹی ہار گئی)، آزاد امیدوار جو ممکنہ طور پر حلقے میں پی ٹی آئی کے اہم ووٹر بینک سے فائدہ اٹھائے گا، ایک اہم عنصر ہونے کی توقع ہے۔
آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات پی ٹی آئی کی زرتاج گل نے جیتے تھے، انہوں نے مضبوط حمایت کی بنیاد کو ظاہر کرتے ہوئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ الیکشن جیتنے کے بعد البتہ وہ حلقہ سے مسلسل غیر حاضر رہیں اور عملاً روپوش رہیں حتیٰ کہ انہیں نو مئی کے سانحہ میں مجرم ثابت ہونے پر سزا ہو گئی۔ موجودہ ضمنی انتخاب زرتاج گل کی نااہلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ابھی یہ پتہ نہیں کہ زرتاج گل کی ڈیرہ غازی خان سے غیر حاضری، سانحہ نو مئی کے مقدمہ میں مجرم ثابت ہو جانے کا حلقہ کے ووٹرز پر کیا اثر ہوا ہے، یہ صبح پولنگ کے بعد سامنے آئے گا۔

مقابلہ کرنے والے آٹھ اہم امیدواروں کی حتمی فہرست میں یہ بھی شامل ہیں
اللہ بخش
سہیل مہرالدین گیلانی
ظفر بشیر
مرید حسین
نواب محمد علی فیصل سدوزئی
عبدالعزیز بلوچ (جے یو آئی ف)
پرائمری امیدواروں کے درمیان مقابلہ قریب ہونے کی توقع ہے، مقامی تجزیہ کاروں نے آج ووٹ کے اس کارزار میں سخت لڑائی کی پیش گوئی کی ہے۔
حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ
حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ II کے ضمنی انتخاب کی تاریخ 23 نومبر 2025 ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے اس اور متعدد دیگر خالی پنجاب اسمبلی کی نشستوں کے لیے شیڈول کا اعلان کیا، جس میں پولنگ 23 نومبر 2025 کو مقرر کی گئی تھی۔
21-22 نومبر، 2025 کو انتخابی مہم ان تاریخوں کے آدھی رات کو ختم ہو گئی تھی۔
صبح 23 نومبر کو یہاں پولنگ ہو گی۔
ضمنی انتخاب میں سترہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔