ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بینگن کے حیران کن فوائد

بینگن کے حیران کن فوائد
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:بیگن کو سبزیوں کا سردار کہا جاتا ہے  تاہم بیگن کو عام طور پر سبزیوں میں زیادہ مقبولیت حاصل نہیں۔ ویسے حیدرآباد دکن کے لوگ تو اس کے دیوانے ہیں اور عام طور پر مشہور ہے کہ اگر دسترخوان پر ایک طرف گوشت سے بنے مختلف اقسام کے مزیدار سالن موجود ہوں اور دوسری طرف بگھارے بیگن رکھے ہوں تو وہ گوشت چھوڑ بیگن کا انتخاب کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائیں گے لیکن نہ جانے کہاں سے یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ بیگن بادی اشیاء میں شامل ہے یعنی اس کے کھانے سے پیٹ میں گیس بنتی ہے جبکہ جدید مغربی غذائی ماہرین بھی بیگن کی طبی افادیت کے قائل ہیں۔ 

بیگنی، سبز، سفید رنگوں اور لمبی، گول، بیضوی صورتوں والی اس سبزی کیلئے اہل مغرب مختلف نام استعمال کرتے ہیں۔ اسے Aubergine بھی کہا جاتا ہے اور Brinjal کے علاوہ Eggplant کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ ’’ایگ پلانٹ‘‘ کا نام غالباً انڈے سے بالکل مشابہ سفید رنگ کے بیگن کی وجہ سے رکھا گیا ہے۔
 یہ سبزی بہت زیادہ ریشے دار کم تر حراروں کی خصوصیت رکھتی ہے جبکہ اس میں مینگانیز، فولیٹ، پوٹاشیم، وٹامن کے، وٹامن سی، نیاسین، میگنیشیم اور کاپر سمیت دیگر غذائی اجزاء کی کوئی کمی نہیں جس کی وجہ سے طبی ماہرین بیگن کو صحت کیلئے بہت مفید قرار دیتے ہیں۔ بیگن میں مختلف وٹامنز اور منرلز کے علاوہ متعدد اینٹی آکسیڈنٹ اجزا بھی ہوتے ہیں جو جسم کو ضرررساں فری ریڈیکلز سے بچاتے ہیں اور اس کی وجہ سے امراض قلب اور کینسر تک سے تحفظ ملتا ہے۔ بیگن میں پایا جانے والا ایک خاص رنگ دار مادہ اینتھوسایانین (Anthocyanin) بھی خلیات کو فری ریڈیکلز کے حملوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جانوروں پر کئے تجربات میں دیکھا گیا ہے کہ بیگن کے استعمال سے دل کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ خراب ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ چکنائی کی سطح میں کمی آتی ہے جس سے دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

 بیگن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جسم میں شکر کے انجذاب کو کم کردیتا ہے اور انسولین کا اخراج بڑھا دیتا ہے جس سے خون میں شکر کی سطح کم تر رہتی ہے۔ بیگن میں موجود وافر ریشے اور پولی فینولز بلڈشوگر لیول کو اعتدال میں رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک کپ کچے بیگن کا وزن 82؍ گرام ہوسکتا ہے جس میں 3؍ گرام صرف ریشہ (فائبر) ہوتا ہے اور اسے کھانے سے جسم کو صرف 20؍ کیلوریز ملتی ہیں۔ دیگر الفاظ میں بیگن میں چونکہ فائبر بہت زیادہ اور کیلوریز کم ہوتی ہیں، اس لئے جو لوگ اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں، ان کیلئے یہ ایک آئیڈیل خوراک ہے۔بینگن میں کئی ایسے غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جو سرطانی خلیات کا جم کر مقابلہ کرتے ہیں مثلاً ایک غذائی مرکب Solasodine Rhamnosyl Glycosides ہے جو آلو، ٹماٹر کے علاوہ بیگن میں بھی پایا جاتا ہے۔ بعض جانوروں پر کیے گئے جائزوں سے یہ ثابت ہوا ہے کہ SRGsنہ صرف سرطانی خلیات کو خودکشی پر مجبور کرسکتے ہیں بلکہ بعض اقسام کے کینسر کو دوبارہ اُبھرنے سے بھی روکتے ہیں۔

 سبزیوں میں شامل اس مرکب کو جلد پر لگانے سے جلدی سرطان سے بھی تحفظ مل سکتا ہے۔ بینگن کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ اسے آپ مختلف طریقوں سے پکا کر اور کچا بھی کھا سکتے ہیں۔ بگھارے بینگن کے علاوہ گوشت کے ساتھ سالن کے طور پر، بینگن کا بھرتا بنا کر، اسے بھون کر، سینک کر اور اُبال کر بھی کھا سکتے ہیں اور چاہیں تو سلاد میں اسے شامل کرسکتے ہیں۔