ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  اب غزہ اور اسرائیل کے درمیان بفر زون؛ زمین غزہ کی استعمال ہو گی

Israel Hamas war, City42, Gaza ceasefire, Hamas' attack on Israel, October seven terrorist attack; Aftermaths , Buffer Zone
کیپشن: اسرائیل کے فوجی غزہ میں جنگ دوبارہ شروع ہونے کے بعد زمینی پیش قدمی کر کے اسرائیل سے متصل علاقوں مین اپنا قبضہ مستحکم کر رہے ہیں۔ یہ فوٹو آئی ڈی ایف نے جاری کی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل نے غزہ کے اسرائیل سے متصل تمام علاقوں میں بفر زون بنانے کے لئے زمینی فوج کی مدد سے کارروائی آج بھی جاری رکھی۔

اسرائیل کے وزیر دفاع نے فوج سے کہا ہے کہ وہ "غزہ کے اضافی علاقوں پر قبضہ کر لے" اور دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے باقی تمام یرغمالیوں کو آزاد نہیں کیا تو اسرائیل غزہ  کے کچھ حصوں پر مستقل طور پر قبضہ کر لے گا۔

اسرائیل کی اتحادی حکومت کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ فوج غزہ میں اپنی زمینی کارروائی "بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ" جاری رکھے گی جب تک کہ "زندہ اور مردہ دونوں" تمام یرغمالیوں کی واپسی نہیں ہو جاتی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ غزہ میں اب بھی یرغمال بنائے گئے 59 میں سے 24 یرغمالی  زندہ ہیں، لیکن جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد ان کی قسمت کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

غزہ میں  مفصل طریقہ کار کے بغیر کی گئی پہلے مرحلہ کی عارضی جنگ بندی کو درحقیقت انتہائی نازک جنگ بندی تھی،  جنوری سے نافذ تھی، یہ اپنی ٹیکنیکل مدت ختم ہونے کے بعد دو ہفتے بعد تک اس لئے برقرار رہی کہ اسرائیل مذاکرات مین جنگ بندی کے اس مرحلے کو توسیع دینے کی سنجیدہ کوشش کرتا رہا۔ جب حماس نے نام نہاد دوسرے مرحلہ کے لئے ہی مذاکرات پر اصرار کیا تو اسرائیل نے دو ہفتے پہلے ایکسپائر ہو چکی جنگ بندی کو عملا! ختم کر دیا۔

اب چار روز کے دوران اسرائیل کے حملوں میں حماس کے کارکنوں اور ان سے قریبی تعلق رکھنے والے غیر جنگجو غزن شہریوں کی اموات کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ 


فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی انروا کے سام روز نے پٹی کی صورت حال کو "سارے غزہ میں پیش آنے والے انتہائی مایوس کن سانحات" کے ساتھ "سنگین، تشویشناک" کے طور پر بیان کیا ہے۔

اسرائیل اور امریکا نے حماس پر جنگ بندی میں توسیع کی تجاویز کو مسترد کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ وہ "پوری ذمہ داری" اور "سنجیدگی "کے ساتھ ثالثوں کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

تاہم، کاٹز نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا کہ "حماس جتنا زیادہ اپنا انکار جاری رکھے گی، غزہ  اتنا ہی زیادہ علاقہ کھو دے گا"۔

کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیل نے اب بھی اس تجویز پر اتفاق کیا ہے، جو امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کی طرف سے لائی گئی تھی، "زندہ اور مردہ، تمام مغوی افراد کو پیشگی اور دو مراحل میں جنگ بندی کے ساتھ رہا کیا جائے"۔

کاٹز نے لکھا، ’’ہم فضائی، سمندری اور زمینی حملوں سے اور زمینی  پیش قدمیوں کو اس وقت تک بڑھاتے ہوئے لڑائی کو تیز کریں گے جب تک کہ یرغمالیوں کی رہائی  نہیں ہو جاتی اور حماس کو شکست نہیں دی جاتی‘‘۔

وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل "غزہ کے رہائشیوں کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے رضاکارانہ منتقلی کے منصوبے پر عمل درآمد کرے گا"۔

جنگ بندی کیوں نہیں ہوئی؟
غزہ میں جنگ کے بارے میں تازہ ترین وضاحت کرتے ہوئےفلسطینی اتھارٹی اور حماس نے کہا ہے کہ غزہ "فروخت کے لیے نہیں ہے"، جبکہ اقوام متحدہ نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ علاقے سے شہریوں کی جبری نقل مکانی بین الاقوامی قانون کے تحت سختی سے ممنوع ہے اور "نسلی تطہیر کے مترادف" ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور اقوام متحدہ نے جنگ کی بنیاد بننے والے مسئلہ حماس کی قید مین اب تک موجود  59 یرغمالیوں کے بارے مین ایک جملہ بھی نہیں کہا۔ دراصل فلسطینی اتھارٹی، اقوام متحدہ اور باقی دنیا جنگ بندی کے پہلے مرحلہ کے  42 دنوں کے دوران اسرائیل کے یرغمالی عورتوں، بوڑھوں کو اخلاقی مجرموں کی طرح تماشا لگا کر اسرائیل واپس بھیجے جانے کے تضیحیک آمیز اور اکسانے والے سلوک کا خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے اور غزہ کی سرنگوں میں اب تک حماس کی قید میں رکھے گئے باقی یرغمالیوں کی رہائی کے متعلق بھی آج ہفتہ کے روز تک خاموش ہیں۔ 

امریکہ، قطر اور مصر کی قیادت میں کئی مہینوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں ابتدا میں" تین مراحل میں جنگ بندی"  کی تجویز پیش کی گئی. جنگ بندی کے عملی آغاز تک لے جانے والے مذاکرات کئی مہینوں پر محیط رہے لیکن  اسرائیل اور حماس اس بات پر متفق ہونے میں ناکام رہے کہ جنگ بندی کو پہلے مرحلے س کے بعد اس سے آگے کیسے  جانا ہے۔

اسرائیل نے  42 دن تک صرف اپنے یرغمالیوں کی دو دو تین تین کے ٹکڑوں مین  ذلت آمیز نمائشوں کے ساتھ واپسی کا انتظار کیا اور حماس نے اس  42 دن کے عرصہ مین خود کو ایک بار  پھر غزہ کی حکمران طاقت کی حیثیت سے استوار کیا اور فلسطینی اتھارٹی  اس سارے عمل میں تماشائی بنی رہی۔ 

جنگ بندی کا پہلا مرحلہ تمام ہوا تو دوسرے نام نہاد مرحلہ کے لئے مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو سکا۔

  آئس بریکنگ کے لئے  امریکہ اور اسرائیل نے پہلے مرحلے میں توسیع کی تجویز دی۔

 حماس نے اس تبدیلی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی طرف سے "معاہدے سے بچنے کی ایک کھلی کوشش" ہے۔

حماس کے بتایا کہ جنگ بندی منگل کو اس وقت ٹوٹ گئی جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں کی شدید لہر شروع کی، جس میں دو دنوں میں 430 سے ​​زائد افراد ہلاک ہوئے۔ جمعرات کو حماس نے تل ابیب پر تین راکٹ داغے۔

تشدد کی بحالی کے لیے حماس کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا کہ اس گروپ نے "یرغمالیوں کے ہر معاہدے کو مسترد کر دیا ہے"۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے اب بھی 59 یرغمال بنائے ہوئے ہیں جن میں سے 24 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔

 اسرائیل کاٹز نے بدھ کے روز حماس کو ایک "آخری انتباہ" جاری کیا، جس میں گروپ کے زیر حراست باقی ماندہ یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا، جمعہ کے روز، اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر نے حماس کو جاری جنگ اور دوبارہ شروع ہونے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔

ڈوروتھی شیا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ "اگر حماس پل کی تجویز کو قبول کر لیتی تو ہر موت سے بچا جا سکتا تھا۔"

حماس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ وہ مذاکرات کو روکنے کے لیے ذمہ دار ہے، اور کہا کہ وہ "گہرے طور پر ملوث ہے" اور "مکمل ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ ثالثوں کے ساتھ مشغول ہے"۔

Caption اب اسرائیل غزہ کے اندر فلسطینی علاقوں پر بفر زون بنا رہا ہے؛ اسرائیل کے اس عمل کی ریشنیل حماس کا غزہ میں اب تک مستحکم کنٹرول ہے۔ حماس کے 7 اکتوبر کے اسرائیل کے اندر گھس کر سویلینز اور فوجیوں کو بیک وقت نشانہ بنانے والے حملوں کا فلسطینیوں کو کیا فائدہ ہوا، غزہ کے عوام کو اس کا کیا فائدہ ہوا، اس سنجیدہ سوال پر فلسطین میں اب تک ڈیبیٹ شروع نہیں کی گئی حالانکہ فلسطینی شہریوں کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی خود بھی اس صورتحال کی وکٹم ہے۔  غزہ میں مجوزہ بفر زون کا یہ نقشہ آئی ڈی ایف نے بنا کر ریلیز کیا۔

ٹیلیگرام پر ایک بیان میں، حماس نے لکھا کہ وہ "وٹ کوف کی تجویز اور پیش کردہ دیگر مختلف نظریات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے، ان سب کا مقصد  "قیدیوں کے تبادلے" کے معاہدے کو حاصل کرنا ہے جو قیدیوں کی رہائی کو یقینی بناتا ہے، جنگ کا خاتمہ کرتا ہے، اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجیوں کا انخلا حاصل کرتا ہے"۔

اپنے بیان میں، کاٹز نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) جن علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہیں وہاں سے شہریوں کو نکالا جائے گا۔

انخلاء کے پچھلے احکامات نے فلسطینی خاندانوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے، جن میں سے اکثر جنگ کی وجہ سے بے گھر ہیں اور ان کے پاس کچھ محفوظ آپشن باقی ہیں۔

اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالنے کے لیے مارچ کے آغاز میں غزہ میں داخل ہونے والی تمام خوراک، ایندھن اور طبی سامان بند کر دیا تھا۔ اس نے حماس پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر دفعات کی کمانڈ کر رہا ہے، حالانکہ اس نے اس دعوے کے ثبوت فراہم نہیں کیے تھے۔

اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر 2023 کو سرحد پار سے ہونے والے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کی مہم شروع کی،  سات اکتوبر کو حماس کے بلا اشتعال حملے میں اسرائیل  میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک  ہوئے تھےاور 251 کو  حماس کے فوجی یرغمال بنا لائے تھے۔ ان یرغمالوں کے سبب سے سترہ ماہ سے جنگ ہو رہی ہے جس میں بمشکل تمام دو ماہ کا وقفہ آیا۔ 

حماس کا ماننا  ہے کہ سات اکتوبر  سے اب تک غزہ میں 49,500 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور اس پٹی میں گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔