ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حزب اللہ کے دو راکٹوں کے جواب میں اسرائیل کی لبنان میں بمباری

Lebanon, Southern Lebanon, Israel Hezbollah war, ceasefire in Lebanon , City42
کیپشن: لبنان سے اسرائیل کر راکٹ فائر کئے گئے اور اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر دوبارہ بمباری شروع کر دی۔ اس دوران لبنان کی فوج نے بھی غالباً جنوبی لبنان مین حزب اللہ کے دو پرانے راکٹ لانچرز کو تباہ کیا ہے۔ لبنان مین بمباری کے بعد آگ کا دھواں دکھاتی یہ تصویر ایک انٹرنیشنل نیوز ایجنسی نے اپنے مقامی فوٹو گریفر سے بنوائی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  آئی ڈی ایف نے لبنان سے اسرائیل پر  راکٹ فائر ککئے جانے کے بعد حزب اللہ کے درجنوں لانچرز اور  کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ 
لبنان کی گزہ جنگ میں واپسی تین ماہ کے وقفے کے بعد ہوئی ہے۔ دسمبر میں جب حزب اللہ خود لبنان میں اسرائیل کے غیر معمولی بڑے زمینی اور فضائی حملوں سے ٹوٹ پھوٹ گئی تو اسرائیل پر جنوبی لبنان کے ٹھکانوں سے حملے رک گئے تھے۔ اب لبنان میں  جنگ بندی ہو چکی ہے لیکن اسرائیل کی فوج جنوبی لبنان میں کچھ جگہوں پر اب بھی موجود ہے۔ اس دوران ہی آج صبح لبنان سے اسرائیل پر راکٹ فائر کر دیئے گئے جنہوں نے شمالی اسرائیل میں میٹولا شہر کو نشانہ بنایا۔ 

IDF کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح میٹولا پر راکٹ حملے کے جواب میں حزب اللہ کے درجنوں راکٹ لانچروں اور لبنان میں دہشت گرد گروپ کے زیر استعمال ایک کمانڈ سینٹر پر فضائی حملے کیے ہیں۔ 

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا راکٹ حملہ "اسرائیل اور لبنان کے درمیان مفاہمت کی صریح خلاف ورزی اور اسرائیلی شہریوں کے لیے براہ راست خطرہ ہے،" فوج کا کہنا ہے کہ "ریاست لبنان اس معاہدے کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری لیتی ہے۔"

نومبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد پہلی بار لبنان سے اسرائیل پر متعدد راکٹ فائر کیے جانے کے بعد اسرائیل نے تقریباً چار ماہ میں پہلی مرتبہ لبنان پر سب سے شدید فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا  حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے درجنوں راکٹ لانچروں اور ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔

لبنان کی وزارت صحت نے کہا کہ حملوں میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

راکت ہم نے نہیں چلائے، حزب اللہ کا دعویٰ

اسرائیل کے حملوں کے بعد حزب اللہ نے کہا  ہے کہ اس نے اسرائیل پر راکٹ حملہ نہیں کیا۔ لبنان نے کہا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

ہفتے کی صبح رپورٹ ہونے والا یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے خلاف  حملوں کے آغاز کے چند دن بعد ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے شمالی اسرائیلی قصبے میٹولا میں تین راکٹوں کو روکا  جو جنوبی لبنان سے فائر کئے گئے تھے۔   اس راکٹوں کے حملے میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

صدر وجزف عون  کا بیان

لبنان کے صدر جوزف عون، جو جنوری میں برسراقتدار آئے تھے، نے کہا ہے کہ ملک میں صرف ریاست کے پاس اسلحہ ہونا چاہیے، جسے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔

ہفتے کے روز، انہوں نے "لبنان کو تشدد کے چکر میں گھسیٹنے کی کوششوں" کی مذمت کی، جبکہ وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ اس کشیدگی سے "ملک کو ایک اور جنگ میں گھسیٹنے کا خطرہ" ہے۔

لبنان کی فوج کی کارروائی

اسرائیل کی جانب سےس حزب اللہ کے جنگ بندی توڑ کر راکٹ فائر کرنے کے الزام اور جوابی حملوں کے بعد لبنانی فوج نے بھی جنوبی لبنان مین کارروائی کی اور لبنانی فوج کے ترجمان نے  کہا کہ لبنان آرمی نے جنوب میں "تین قدیم راکٹ لانچرز" کو تباہ کر دیا ہے، لبنان کے  وزیر دفاع نے کہا کہ حملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

لبنان میں سرگرم مرکزی مسلح گروپ حزب اللہ نے کہا کہ اس نے یہ حملہ نہیں کیا ہے اور وہ جنگ بندی کے لیے پرعزم ہے جس سے لبنان میں 14 ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ ہوا ہے۔

امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں ہونے والی نازک جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے یہ بدترین تشدد ہے۔

معاہدے کی شرائط کے تحت لبنانی فوج مسلح گروپوں کو اسرائیل پر حملہ کرنے سے روکنے کے لیے ہزاروں  فوجی ملک کے جنوب میں تعینات کرے گی۔

حزب اللہ کو اپنے جنگجوؤں اور ہتھیاروں کو ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کے جواب میں اسرائیلی فوج جنگ میں زیر قبضہ پوزیشنوں سے دستبردار ہو جائے گی۔

 جنگ بندی کے بعد حزب اللہ نے جنوبی لبنان کے اپنے مضبوط ٹھکانے خالی کرنے میں تساہل کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر تقریباً روزانہ فضائی حملے کیے ہیں، اور اس نے اشارہ دیا ہے کہ اس گروپ کو دوبارہ مسلح ہونے سے روکنے کے لیے حملے جاری رہیں گے۔