ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کےانتخاب کےحوالےسےبڑا حکم دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کا وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے پولیس کو اسمبلی میں داخل ہونے سے روک دیا جبکہ امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے پر طلبی پر ہی پولیس اندر جا سکے گی۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے تحریک انصاف کے ایم پی اے سبطین خان ، زینب عمیر سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ، پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل چوہدری جواد یعقوب ، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل بریسٹر حسن خالد رنجھا ہیش ہوئے، درخواست گزار وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلی کے شفاف انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا۔ڈپٹی سییکر نے وزیراعلی کے آج 22 جولائی کو ہونے والے الیکشن سے ایک روز پہلے آئی جی پولیس کو لیٹر لکھا،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی پر ہمیں پہلے ہی ہمیں تحفظات تھے۔
پنجاب اسمبلی کے اندر صرف انٹرنل سیکورٹی تعینات ہوسکتی ہے،16 مئی کو بھی وزیراعلی کے الیکشن ڈپٹی سپیکر نے پولیس کو پنجاب اسمبلی بلوایاجس پر وہاں ہنگامہ آرائی ہوئی ۔اب بھی ڈپٹی سپیکر نے آئی جی کو لکھا ہے کہ اس پر حملہ ہوگیا ہے،یہاں اسمبلی میں پولیس تعینات کی جائے۔جسٹس مزمل اختر شبیر نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیسے پتہ چلا ہے کہ ڈپٹی سیکر نے گزشتہ روز لکھا. ہے اور بتائیں کیا الیکشن سے پہلے حملہ نہیں ہوسکتا۔؟؟
ڈپٹی سپیکر نے پنجاب اسمبلی کی انٹرنل سیکورٹی کو باہر نکال کر پولیس سیکورٹی تعینات کرنے کا مراسلہ لکھا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں کسی جگہ نہیں لکھا کہ وزیر اعلی کے الیکشن کے موقع پر پولیس اسمبلی کے اندرتعینات ہوگی۔
اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بریسٹر حسن خالد رانجھا نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو رولز اجازت دیتے ہیں کہ وہ ضرورت پڑنے پر پولیس سکیورٹی طلب کر سکتا ہے، جسٹس مزمل اختر شبیر نے پنجاب حکومت کے اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا بالکل اگر امن و عامہ کی صورتحال پیدا ہو اور پریزائیڈنگ افسر مناسب سمجھے تو پولیس طلب کر سکتا ہے، درخواست گزار وکیل نے کہاپولیس کو بس اتنا حکم دیا جائے کہ وہ اسمبلی کے اندر نہ جائے، اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل بیرسٹر حسن خالد رانجھا نے جواب دیا ہائیکورٹ نے گزشتہ روز جو حکم دیا اس میں آئی جی اور چیف سیکرٹری کو معاونت کی ہدایت کی تھی، وکیل درخواست گزار نے کہا پنجاب حکومت کے لاء افسر وقت ضائع کرنا چاہ رہے ہیں، 4 بجے الیکشن ہیں، جسٹس مزمل اختر شبیر نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ اگر دوبارہ دلائل دینا چاہتے ہیں تو 10 گھنٹے تک آپ کو سن لیتے ہیں۔
درخواست گزار وکیل نے کہا وہ اپنے الفاظ پرعدالت نے معافی چاہتے ہیں، اسمبلی کی سکیورٹی اندر موجود ہے، اگر حالات ایسے بنے تو لازمی قانون حرکت میں آئے گا، پولیس اسمبلی کے باہر کھڑی رہے، درخواستگزار کو کوئی اعتراض نہیں ہے، اسمبلی کے اندر سارجنٹ ایٹ آرم موجود ہے، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جواد یعقوب نے کہا
سپریم کورٹ، ہائیکورٹ کے پہلے سے ہی علم میں تھا اسمبلی کی سکیورٹی موجود ہے مگر عدالتوں نے پولیس کو بھی تعینات کرنے کا حکم دیا ، عدالتی فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ پولیس تمام اراکین اسمبلی کے آزادانہ ووٹ کاسٹنگ کو یقینی بنائیں، آزادانہ ووٹ کاسٹنگ کو یقینی بنانے کیلئے پولیس کو اسمبلی سے جانا ہو گا، جسٹس مزمل اختر شبیر نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اب کہیں گے کہ پولیس ووٹ بھی ڈال سکتی ہے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی معطل ہے، سیکرٹری اسمبلی کے وکیل نے کہا سیکرٹری اسمبلی اپنا اختیار قانون کے مطابق استعمال کریں گے، پنجاب اسمبلی کی سکیورٹی اپنی سکیورٹی ہے اور پر امن الیکشن کروانے کے قابل بھی ہے، پولیس اس خدشے کے پیش نظر بلائی گئی کیونکہ پہلے لوٹے اسمبلی میں پہنچائے گئے تھے۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا سپریم کورٹ، ہائیکورٹ کے پہلے سے ہی علم میں تھا اسمبلی کی سکیورٹی موجود ہے، مگر عدالتوں نے پولیس کو بھی تعینات کرنے کا حکم دیا ، عدالتی فیصلوں میں کہا گیا ہے کہ پولیس تمام اراکین اسمبلی کے آزادانہ ووٹ کاسٹنگ کو یقینی بنائیں۔