یہ ایک عام سا خیال ہے کہ انسان بھوک سے نہیں مرتا، مگر تاریخ اس خیال کی خاموش مگر فیصلہ کن تردید کرتی ہے۔ دنیا میں لاکھوں انسان اس لیے نہیں مرے کہ خوراک موجود نہ تھی، بلکہ اس لیے مرے کہ اُن تک رسائی روک دی گئی.کہیں قلت کے نام پر، کہیں طاقت کے زور پر، کہیں جنگ کی آڑ میں، اور کہیں ایسے نظام کے تحت جو کمزور کو دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے۔
افریقہ کے قحط زدہ خطے ہوں یا غزہ کی حالیہ جنگ میں اجڑی بستیاں ،بھوک کبھی محض جسمانی مسئلہ نہیں رہی۔ یہ ہمیشہ سیاسی، سماجی، معاشی اور اخلاقی سوال رہی ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی جسم کئی دن بھوکا رہ سکتا ہے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ضمیر کے بغیر کوئی معاشرہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
لیکن یہ تحریر صرف بھوک کا نوحہ نہیں۔ یہ اُس لمحے کی بات ہے جب انسان کے پاس سانس کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔کبھی انسان زندگی کے اُس موڑ پر آ کھڑا ہوتا ہے جہاں جیب خالی، مستقبل بے روزگار، رشتے بکھرے ہوئے اور مدد مانگنے کی ہمت بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ نہ نوکری، نہ کاروبار، نہ اُدھار کی گنجائش بلکہ کرایہ سر پر کھڑا ہوتا ہے۔بچوں کی فیس آنکھوں میں سوال بن جاتی ہے، ماں کی دوا سانس میں اٹکی ہوتی ہے، اور گھر میں ایسی خاموشی ہوتی ہے جو بھوک سے زیادہ چیخنے لگتی ہے۔ اور پھر بھی انسان سانس لیتا ہے۔اس لیے نہیں کہ زندگی آسان ہے، بلکہ اس لیے کہ ہار مان لینا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔
پاکستان اور بھارت کی سڑکوں پر آج بھی یہ منظر روز دہرایا جاتا ہے۔ صبح سویرے مزدور ہاتھوں میں اوزار، آنکھوں میں ایک دن کی امید لیے سڑک کنارے کھڑے ہوتے ہیں۔ اکثر کوئی نہیں آتا سورج ڈھل جاتا ہے، دن گزر جاتا ہے، اور وہ خالی ہاتھ گھروں کو لوٹتے ہیں۔جہاں بچے سوال کرنا چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ یہی منظر افریقہ، لاطینی امریکہ اور یورپ کے محلوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ایسے حالات میں عزت خود بوجھ بن جاتی ہے، اور مدد مانگنا ایک اور شکست محسوس ہوتا ہے۔ پھر بھی انسان سانس لیتا ہے، اور یہی سانس اس وقت شجاعت بن جاتی ہے۔جب تمام مادی وسائل ختم ہو جائیں تو اکثر ایمان باقی رہ جاتا ہے۔خدا پر ایمان، زندگی کے معنی پر ایمان، اور اس یقین پر ایمان کہ یہ سانس بے مقصد نہیں۔ مایوسی میں سانس لینا کمزوری نہیں بلکہ مزاحمت ہے۔ بار بار ناکام امتحانات، برسوں کی محنت سے بنے کاروبار کا زوال، محبوب کی جدائی، دوستوں کی بے رخی، تعصب، ناانصافی اور اداروں کی خاموشی وغیرہ سب کچھ مل کر انسان کو توڑنے کے لیے کافی ہوتا ہے، مگر پھر بھی سانس جاری رہتی ہے۔
تصوف میں بھی صبر ہی ہے، دیگر مذاہب میں برداشت، اور سائنس میں زندگی کو بچانے کا فطری فیصلہ زبانیں مختلف ہیں، مگر سچ ایک ہے: دنیا انسانیت واپس لے لے تب بھی انسان کا انسان رہنا ضروری ہے ۔ ہمیں اُن خاموش المیوں کو بھی دیکھنا ہوگا جن سے ہم نظریں چرا لیتے ہیں۔ تشدد بھری شادیاں، اولاد کی محرومی پر سماجی طنز، وہ باعزت عورتیں جو بھوک، بیماری اور بچوں کی فیس کے لیے ایسے سمجھوتوں پر مجبور ہو جاتی ہیں جن کا ذکر بھی آسان نہیں۔ یہ اخلاقی کمزوری نہیں، یہ نظامی ظلم ہے۔ اسی طرح بڑھاپابغیر پنشن، بغیر علاج، بغیر سہارے پاکستان، بھارت اور افریقہ کے کئی خطوں میں زندگی کا سب سے کڑا امتحان بن جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ معاشرے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم نے اردگرد دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں اپنے محلوں، اپنے رشتہ داروں، اپنے دوستوں خصوصاً اُن سفید پوش افراد پر نظر رکھنی ہوگی جو مانگ نہیں سکتے مگر اندر سے بکھر رہے ہیں۔ کاروبار کو ملازم کو انسان سمجھنا ہوگا، اداروں کو کمزوری کو جرم نہیں بنانا ہوگا، اور ریاست کو پالیسیوں کو عملی ریلیف میں بدلنا ہوگا۔ آخر میں ایک بات یاد رکھنی چاہیے: سانس لینا محض جسمانی عمل نہیں۔ کبھی کبھی یہ دن کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ جب عزت نہ ہو، سہارا نہ ہو، ہمدردی نہ ہوتب بھی سانس لینا بہادری ہے۔ اور اگر ہم اس جرأت کو پہچان لیں، تو شاید انسان کو زندہ رہنے کے لیے اتنی شجاعت درکار نہ ہو۔اور اس احساس کو آگے بڑھائیے، کیونکہ آگہی بھی صدقہ ہے۔ کبھی کبھی سانس لینا ہی واحد ہمت رہ جاتی ہے