ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت نے BBC پر جرمانہ عائد کردیا

بھارت نے BBC پر جرمانہ عائد کردیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : بھارت کی انسدادِ مالیاتی جرائم ایجنسی نے غیرملکی زرمبادلہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے سبب برطانوی نشریاتی ادارے برٹش براڈکاسٹنگ سروس (بی بی سی) پر  3 لاکھ 14 ہزار 510 پاؤنڈ (3 لاکھ 97 ہزار 980 ڈالر)  جرمانہ عائد کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق  انڈین انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے اپریل 2023 میں فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کے تحت بی بی سی کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ٹیکس حکام کی جانب سے دہلی اور ممبئی میں براڈکاسٹر کے دفاتر کی تلاشی لینے کے 2 ماہ بعد یہ اقدام اٹھایا گیا تھا۔

ای ڈی نے بھارت کے فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹ کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرتا ہے اور اس کی ویب سائٹ کے مطابق قصورواروں پر کے خلاف فیصلہ اور جرمانے عائد کر سکتا ہے۔بی بی سی نے دسمبر 2023 میں ہندی زبان میں سروسز فراہم کے لیے ایک نئی کمپنی شروع کی تھی، کیونکہ کمپنی میں غیر ملکی ملکیت کو 26 فیصد کی اجازت شدہ حد تک کم کرنے میں ناکامی پر شو کاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں براڈکاسٹر کو خلاف ورزیوں پر 15 اکتوبر 2021 سے ہر روز جرمانے کے ساتھ ساتھ3 لاکھ 14 ہزار 510 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔کمپنی کے 3 ڈائریکٹرز کو خلاف ورزی کی مدت کے دوران آپریشنز کی نگرانی میں ان کے کردار کے لیے ہر ایک پر ایک لاکھ 4 ہزار 836 پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 2023 میں بی بی سی کی جانب سے ایک دستاویزی فلم کو بھارتی حکومت نے پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس کی اسٹریمنگ کے ساتھ ساتھ اس کے شیئر کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔اس دستاویزی فلم میں دو دہائی قبل بھارتی ریاست گجرات میں ہونے والے فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔اس دستاویزی فلم میں بھارتی وزیراعظم کے بھارت کی مسلم اقلیت کے ساتھ تعلقات کو موضوع بنایا گیا تھا۔

"India" The Modi Question" نامی اس دستاویزی فلم میں بھارتی صوبہ گجرات میں نریندر مودی کی وزارت اعلیٰ کے دوران 2002 ء میں مسلم کُش فسادات اور ان کے نتیجے میں 1000 سے زائد لوگوں کی ہلاکت ’جن میں 790 مسلمان تھے‘ کو بطور خاص موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ 

یہ فلم بھارت میں نشر نہیں کی گئی تھی لیکن اس کے باوجود انتہاپسند ہندوئوں نے اس پر شدید احتجاج کیا اور بی جے پی سے وابستہ لوگ اسے نوآبادیاتی سوچ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔