بھارتی کسانوں کے الٹی میٹم نے مودی کی نیندیں اڑا دیں

 بھارتی کسانوں کے الٹی میٹم نے مودی کی نیندیں اڑا دیں

(ویب ڈیسک) بھارتی کسانوں کا کالے قوانین کے خلاف احتجاج جاری ہے ،بھارتی پنجاب میں ایک لاکھ کسانوں نے مودی کےخلاف احتجاج کیا، کسان رہنماﺅں نے کہا کہ 8 مارچ کو پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا جبکہ امریکہ کی 87 بڑی کسان یونینز بھی بھارتی کاشتکاروں کے حق میں بول اٹھیں ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق، مشرقی پنجاب کے شہر برنالہ میں کسانوں کی بڑی پنچایت منعقد کی گئی۔ کسان رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دلی پولیس نے کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمے بنائے۔ رہنماؤں نے مزید کہا کہ سارے تہوار دھرنوں ہی میں منائے جائیں گے، جلسے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے کہا کہ 8 مارچ کو پارلیمنٹ کا گھیراؤبھی کیا جائے گا۔

بھارت ایشیا کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک بڑی معیشت ہے اور آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ خود کو ایشیا کا چوکیدار سمجھنے والے ملک کو اس وقت کئی اندرونی مسائل کا سامنا ہے۔ کبھی اقلیتوں کے ساتھ مسائل بین الاقوامی میڈیا پر موضوع بنتے ہیں تو کبھی کشمیر کی صورتحال اور کبھی کسانوں کا مہینے بھر سے چلنے والا مارچ اور احتجاج۔

بھارت میں زراعت کا شعبہ پچھلے کئی سالوں سے احتجاج کرتا آرہا ہے۔ اب تک کئی ہزار کسان معاشی تنگیوں سے مجبور ہوکر اپنی جانوں سے جاچکے ہیں۔ ان کے خاندان اس وقت بھی حکومتِ وقت سے مدد کی امید رکھتے تھے۔ مذاکرات ہوتے تھے، کسانوں کو سمجھا لیا جاتا تھا اور وہ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے، لیکن پچھلے ماہ سے شروع ہونے والے حتجاج میں اب تک کئی جانیں جانے کے بعد باوجود کسان کسی طور پر رکتے نظر نہیں آرہے۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی زراعت کا شعبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ سی این این انڈیا کے مطابق 50 فیصد بھارتیوں کے روزگار زراعت کے شعبے سے جڑے ہوئے ہیں۔ امریکا کی 87 بڑی کسان یونینز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ زرعی قوانین کسانوں سے زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔