ویب ڈیسک: ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ کے بڑے کیس میں نجی بینک کے 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ ملزمان نے پانچ صارفین کے اکاؤنٹس سے مجموعی طور پر ڈیڑھ کروڑ روپے نکال لیے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے بینکنگ سسٹم سے مالدار صارفین کا انتخاب کیا، ان کے موبائل نمبرز، ای میلز اور پتے تبدیل کیے اور نئے اے ٹی ایم کارڈز حاصل کرکے اکاؤنٹس سے رقوم نکالیں۔ گروہ میں شامل نجی بینک کے ایک افسر نے مبینہ طور پر 170 سے زائد صارفین کا ڈیٹا اپنے ساتھیوں کو فراہم کیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزمان نئے اے ٹی ایم کارڈز کی درخواست دینے کے بعد متعلقہ صارفین کے گھروں کے باہر ریکی کرتے اور جعل سازی کے ذریعے رائیڈر سے کارڈ وصول کرلیتے تھے ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے تین رکنی گروہ کو گرفتار کرلیا گرفتار ملزمان کی شناخت عبداللہ، عمران عزیز اور عاطف کے نام سے ہوئی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 90 لاکھ روپے نقد اور اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے گئے، جبکہ بروقت کارروائی کے باعث مزید صارفین کو مالی نقصان سے بچا لیا گیا۔
ایف آئی اے نے شہریوں کو نئی نوعیت کے ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ سے محتاط رہنے اور اپنے بینک اکاؤنٹس کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کردی۔