سٹی42: غزہ کو آخر کار قحط زدہ علاقہ تسلیم کر لیا گیا۔
اقوام متحدہ نےغزہ کو قحط زدہ علاقہ قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے قرار دیا ہے کہ غزہ کے بعض علاقے قحط زدہ ہو چکے ہیں اور یہ صورتحال آئندہ ماہ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اقوام متحدہ کی "گلوبل ہنگر مانیٹر انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن" (آئی پی سی) کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی، غزہ کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ قحط کا شکار ہے اور یہ تعداد ستمبر کے آخر تک 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔
آئی پی سی کی اس رپورٹ میں غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے خصوصاً غزہ سٹی کو باضابطہ طور پر قحط زدہ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف غزہ سٹی میں 2 لاکھ 80 ہزار افراد قحط جیسی صورتحال کا شکار ہیں۔ دیگر متاثرہ علاقوں دیر البلح اور خان یونس کی آبادیاں شامل ہیں جو ، اس رپورٹ کے مطابق، اگلے ماہ قحط کا شکار ہو سکتی ہیں۔
غزہ کے کسی علاقہ میں قحط نہیں، اسرائیل کا مؤقف
اسرائیل نے غزہ میں قحط سے متعلق آئی پی سی کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ غزہ میں قحط کی کوئی صورتحال نہیں ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ سے زائد امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوجی ادارے COGAT نےغزہ میں قحط اور امداد کے داخلے میں رکاوٹوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حماس ’جھوٹی بھوک مہم‘ چلا رہی ہے اور اقوامِ متحدہ سمیت دیگر ادارے غزہ میں قحط کے حوالے سے بے بنیاد دعوے پھیلا رہے ہیں۔
خوراک سرحدوں پر رکی ہوئی ہے ، اسرائیل مسلسل رکاوٹ ڈال رہا ہے: ٹام فلیچر
اقوام متحدہ کے امدادی امور کے سربراہ ٹام فلیچرنے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں پھیلنے والا قحط روکا جاسکتا تھا لیکن اسرائیل کی ’منظم رکاوٹوں‘ نے امدادی سامان کی ترسیل کو ناممکن بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہ قحط ہے جسے ہم روک سکتے تھے اگر ہمیں اجازت دی جاتی، لیکن خوراک سرحدوں پر رکی ہوئی ہے کیونکہ اسرائیل مسلسل رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
ٹام فلیچر نے کہا کہ یہ ’21 ویں صدی کا قحط‘ عالمی برادری کے لیے ’اجتماعی شرمندگی کا لمحہ‘ ہے کیونکہ دنیا نے اسے رئیل ٹائم میں ہوتے دیکھا۔
ٹام فلیچر نے کہا کہ نیتن یاہو امدادی سامان کو بڑے پیمانے پر اور بغیر رکاوٹ غزہ میں داخل ہونے دیں اور انتقامی اقدامات ختم کیے جائیں۔
غزہ میں قحط کا پھیلنا اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے: وولکر ترک
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا ہے کہ شمالی غزہ میں قحط کا پھیلنا اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا براہِ راست نتیجہ ہے اور بھوک سے ہونے والی اموات جنگی جرم کے مترادف ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ گورنریٹ میں آج قحط کی تصدیق اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا نتیجہ ہے، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے اور اس کے باعث اموات دانستہ قتل کے زمرے میں بھی آسکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے پہلے خبردار کیا تھا کہ تباہ کن انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپی ممالک نے بھی اس بحران کو ناقابلِ تصور قرار دیا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ غزہ میں واقعی لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔