ویب ڈیسک:وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو عوامی ریلیف سے جوڑتے ہوئے بجلی، پیٹرولیم مصنوعات اور مختلف معاشی شعبوں کیلئے بڑے اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
حکومتی حلقوں کے مطابق بجٹ 2026-27 میں عام شہریوں، کسانوں، صنعتکاروں اور پراپرٹی سیکٹر کو نمایاں سہولتیں دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ معاشی دباؤ کم کیا جا سکے۔
نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر مملکت برائے قومی ورثہ و ثقافت حذیفہ رحمان نے کہا کہ حکومت مشکل معاشی حالات کے باوجود ایسا بجٹ لانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے براہِ راست عوام کو فائدہ پہنچے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کی واضح ہدایت ہے کہ بنیادی ضروریات سے متعلق شعبوں میں زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 2022 میں انتہائی خراب معاشی صورتحال میں اقتدار سنبھالا تھا، جب زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک گر چکے تھے، تاہم اب معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں موجودہ کشیدگی اور عالمی سطح پر جنگی حالات نہ ہوتے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش موجود تھی۔ اس کے باوجود حکومت اشیائے خورونوش، ادویات اور بجلی کی قیمتوں میں عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ آئندہ بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر کیلئے خصوصی ریلیف پیکج متوقع ہے، کیونکہ اس شعبے سے سرمایہ کاری میں کمی اور کاروباری مشکلات سے متعلق متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں۔
حذیفہ رحمان کے مطابق کسانوں کو زرعی ادویات پر ممکنہ سبسڈی اور رعایت دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ زرعی شعبے کو سہارا دیا جا سکے، جبکہ صنعتی شعبے کیلئے بھی مراعاتی اقدامات متوقع ہیں تاکہ برآمدات بڑھیں اور درآمدات پر انحصار کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح سستی بجلی فراہم کرکے صنعتوں کو فعال بنانا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ ان کے مطابق نواز شریف نے بھی ہدایت دی ہے کہ عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات میں واضح ریلیف ناگزیر ہے۔
وزیر مملکت نے مزید کہا کہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی آئندہ بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت اپنی آئینی مدت کے دوران عوامی توقعات پوری کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔