ویب ڈیسک: حکومت پنجاب نے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں زرعی آمدن پر ٹیکس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے.
نئے مالی سال میں زرعی آمدن پر ٹیکس کا ہدف ساڑھے 10 ارب روپے مقرر کیا گیا جو گزشتہ سال سے 200 فیصد زیادہ ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پنجاب میں تجارتی بنیادوں پر چلنے والے کمرشل فارمز پر کارپوریٹ ٹیکس کے اصول لاگو ہوں گے۔
ان اصولوں کے تحت زیادہ آمدن والے افراد پر سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔
دستاویزات کےمطابق ریٹرن فائل نہ کرنے، ٹیکس بروقت ادا نہ کرنے پر جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ اقدام زرعی آمدنی ٹیکس (ترمیمی) ایکٹ 2024 کے تحت اٹھایا گیا ہے۔