ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کے لئے قانون کا مسودہ

Kids using Social Media. Social platforms
کیپشن: بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے کو اب ترقی یافتہ ملکوں میں ایک مسئلہ کی حیثیت سے دیکھا اور ڈیل کیا جا رہا ہے، پاکستان میں بھی بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا قانون بنانے کے لئے کوشش کا آغاز ہو گیا ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  پاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کے لئے قانون کا مسودہ پارلیمنٹ میں آ گیا۔

 سینیٹ میں سوشل میڈیا  ویب سائٹس کو استعمال کرنے والوں  کی کم از کم عمر کی حد کا بِل پیش کردیا گیا۔

 سینیٹ میں پیش کئے گئے قانون کے مسودہ میں سوشل میڈیا ویب سائتس استعمال کرنے کے لئے  کم از کم  عمر 16 سال مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ 

اس قانون کے منظور ہونے کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری ہونے کے بعد یہ مسودہ قانون طریقہ کار کے مطابق صدر مملکت کی منظوری کے لئے بھیجا جائے گا، صدر ممالکت کے دستخط ہوتے ہیں پاکستان میں  16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی لگ جائے گی اور سوشل پلیٹ فارمز کسی پاکستانی بچے کی عمر   16 سال سے کم ہونے کی صورت میں اسے اپنا اکاؤنٹ/ پروفائل بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

پاکستان مین یہ قانون نافذ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم کم عمر صارف کو اکاؤنٹ بنانے سے روکنے کا پابند ہو گا۔ بِل میں تجویز دی گئی ہے کہ اگرسوشل میڈیا پلیٹ فارم کم  عمر بچے کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دے تو  اسے 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

بِل کے مطابق کم عمربچے کو اکاؤنٹ بنانے میں سہولت دینے والے کو 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

بِل میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کوبلاک کرے گا اور ایسے اقدامات کرے گا کہ کم عمر بچے اکاؤنٹ نہ بناسکیں۔

سوشل پلیٹ فارمز کا بچوں  کے متعلق رویہ
کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے  بچوں کو اپنے مواد سے دور رکھنے کے لئے اکاؤنٹ بنانے کے لئے کم سے کم عمر کی حد پہلے ہی مقرر کر رکھی ہے مثلاً انسٹاگرام صارفین پر عمر کی حد کا اطلاق کرتا ہے لیکن سوشل میڈیا کی پوری صنعت اس ضمن میں کوئی واحد طریقہ کار استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا آغاز

سوشل میڈیا پر موجود مواد اور بالغ یوزرز کے رویوں اور بعض اوقات مجرمانہ انٹریکشنز کو بچوں میں کئی مسائل اور جرائم کے رجحانات پھیلنے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔

ترقی یافتہ ملکوں میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کا آغاز گزشتہ سال کے آخر میں  آسٹریلیا سے ہوا جہاں حکومت نے الیکشن سے پہلے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ الیکشن جیتے تو 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل پلیٹ فارمز استعمال کرنے پر پابندی لگائین گے۔ الیکشن کے بعد نومبر کے آخری ہفتے   آسٹریلیا کے ایوان نمائندگان نے ایک بل کی منظوری دی جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہو گی۔بعد میں یہ بل حتمی منظوری کے لیے سینیٹ میں بھیجا  گیا دسمبر میں یہ اس نوعیت کا دنیا کا پہلا قانون بن کر نافذ ہو گیا۔

آسٹریلیا کے قانون کے مطابق

 16 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال نہیں کر سکتے۔
اس پابندی کا اطلاق ٹک ٹاک، فیس بک، اسنیب چیٹ ،ریڈٹ اور ایکس سمیت سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر ہو تا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایک سال کے اندر کم عمر بچوں کو پلیٹ فارمز پر آنے سے روکنے کے لیے سیکیورٹی نظام قائم کریں گے۔
پابندی پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تین کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک کے جرمانے کا سامنا ہو گا۔

برطانیہ میں کیا ہو رہا ہے

برطانیہ میں سوشل میڈیا پر پابندی کے اطلاق کا قانون ابھی تازہ مرحلوں میں ہے لیکن اس کے تحت کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سائٹس نہیں بلکہ بالغ افراد کے لیے مخصوص ویب سائٹ تک رسائی پر پابندی لگائی گئی ہے۔

یورپی یونین بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگائے، فرانس کے صدر کے خیالات

فرانس کے صدر میکروں نے تجویز دی ہے کہ  انڈر 15 بچوں کے  سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع قرار دیا جائے۔

فرانسیسی صدر یورپی یونین پر زور دے رہے ہیں کہ 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی سے متعلق ضوابط بنائے جائیں۔ ماکروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس بارے میں نتائج جلد سامنے آ جائیں گے۔

فرانسیسی صدر  ایمانوئل میکروں نے فرانس کے ایک اسکول میں چاقو سے حملے کے تازہ ترین واقعے کے پس منظر میں ایک فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپی یونین پر زور دے رہے ہیں کہ 15 سال سے کم عمر کے بچوں کی طرف سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی لگائی جانا چاہیے اور اس سلسلے میں یورپی ضوابط جلد تیار کیے جانا چاہییں۔

صدر میکروں نےفرانس ٹو نامی پبلک براڈکاسٹر کے ساتھ انٹریو میں یہ بیان فرانس کے شہر نوژوں کے ایک مڈل اسکول میں  چاقو  سے کیے جانے والے ایک مہلک حملے کے چند گھنٹے بعد دیا۔

چاقو سے مہلک حملہ
گزشتہ مہینے منگل 10 جون کو مشرقی فرانس کے شہر نوژوں کے ایک مڈل اسکول میں ایک 14 سالہ طالب علم نے ایک 31 سالہ خاتون ٹیچنگ اسسٹنٹ کو  چاقو  سے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ ٹیچنگ اسسٹنٹ اسکول کے گیٹ پر طلبہ کے بیگز میں ہتھیاروں کی ممکنہ موجودگی کی چیکنگ کر رہی تھیں۔

سوشل میڈیا پر  موجود بہت سے مواد کو بچوں مین بے چینی سے لے کر جرائم کے رجحانات کے ابھار تک بہت سے مسائل کا ذمہ دار تصور کیا جا رہا ہے اور بچوں کو مہلک مواد سے  بچانے کے لئے  والدین کی نگرانی کے پرانے تصور سے آگے بڑھ کر اب بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کی تجویزوں پر ترقی یافتہ دنیا سنجیدگی سے گور کر رہی ہے۔ 

پاکستان میں پارلیمنٹ  کے ایوانِ بالا میں ٹیبل کیا جانے والا مسودہِ قانون  کم ترقی یافتہ ممالک میں اس نوعیت کی پہلی پیش قدمی ہے۔