بیوروکریسی کا نکا کلچر

بیوروکریسی کا نکا کلچر

(قیصر کھوکھر) ماضی میں ن لیگ کو محض اس وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ انہوں نے احد خان چیمہ سمیت متعدد جونیئر افسران کو سینئر اسامیوں پر تعینات کر رکھا ہے جس سے سینئر افسران کی حق تلفی ہو رہی ہے اور اب پی ٹی آئی کی حکومت نے خود اس پر عمل شروع کر دیا ہے اور جونیئر افسران کو ڈی پی او اور ڈی سی لگانا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب میں جو بھی حکومت آتی ہے وہ بیورو کریسی کے نکا کلچر کو پروان چڑھاتی ہے اور جونیئر افسران کو سینئر اسامیوں پر تعینات کر کے انہیں خوش کر دیتی ہے اور پھر ان افسران سے اپنے من پسند فائدے اور کام کرواتی ہے۔ پنجاب میں پولیس اور ڈی ایم جی افسران کی ایک بڑی تعداد جونیئر ہونے کے باوجود سینئر اسامیوں پر تعینات ہے حالانکہ پنجاب میں سینئر افسران بھی موجود ہیں اور جان بوجھ کر سینئر افسران کو کھڈے لائن لگایا جاتا ہے۔

 اس وقت پنجاب کے16 اضلاع میں جونیئر افسران ڈی پی او اور 18اضلاع میں جونیئر گریڈ 18کے افسران ڈی سی لگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں متعدد ڈی آئی جیزکو ایڈیشنل آئی جی کی سیٹ پر تعینات کر رکھا ہے۔ پنجاب میں ایڈیشنل آئی جی رینک کے پولیس افسران کھڈے لائن لگے ہوئے ہیں اور وفاق نے حال ہی میں پنجاب کو ڈی آئی جی رینک کے پولیس افسران دینے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ پنجاب میں ڈی آئی جی رینک کے پولیس افسران پہلے ہی کوٹے سے زائد ہیں۔

پنجاب میں ڈی سی رینک کی سیٹ گریڈ 19 اور گریڈ 20 کی سیٹ ہے لیکن ان عہدوں پر گریڈ 18 کے افسران ڈی سی لگے ہوئے ہیں اور اس طرح جونیئر افسران کو سینئر افسران پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ پنجاب میں گزشتہ بیس سال سے یہ روایت چل رہی ہے کہ جونیئر کو اوپر لاو اور سینئر چونکہ چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ افسران کےلئے خطرہ ہوتے ہیں لہٰذا انہیں نظر انداز کرو جو افسر چیف سیکرٹری شپ کےلئے خطرہ ہوتے ہیں ان کی خدمات پنجاب سے سرنڈر کر دی جاتی ہیں جیسے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کیپٹن (ر) فضیل اصغر کے ساتھ ہوا ہے ۔

اسی طرح گریڈ 21میں انہیں افسران کو پنجاب میں رکھا جاتا ہے جو کسی کی سینئر پوسٹ کےلئے خطرہ نہیں ہوتے ہر آنے والی حکومت افسر شاہی کو اپنے اپنے مفاد ات کے مطابق استعمال کرنے کےلئے تمام ہتھکنڈے اور وسائل استعمال کرتی ہے اس کےلئے بیورو کریسی میں اپنے من پسند افسران کا گروپ قائم کرتی ہے تاکہ سیاسی معاملات بہتر طور پر آگے بڑھائے جا سکیں۔ ایک وقت تھا کہ جب افسر شاہی کو سیاسی معاملات سے الگ تھلگ رکھا جاتا تھا۔ لیکن ملک میں آنےوالی طالع آزما حکومتوں نے سول افسر شاہی کو ساتھ ملا کر اس ملک پر راج کیا۔

جس سے یہ ہوا کہ جو فیصلے میرٹ، انصاف اور ضابطہ کے تحت ہوتے تھے وہ سفارش اور پریشر پر ہونے لگے جس سے ایماندار اور پیشہ ور افسران کی حق تلفی ہوتی گئی۔ صرف پک اینڈ چوز کی بنیاد پر ہی تمام تبادلے اور فیصلے کئے جاتے ہیں۔ ایک افسر ایک ضلع یا محکمہ میں درست کام نہیں کرتا تو اسے ہٹا کر دوسرے ضلع یا محکمے میں لگا دیا جاتا ہے۔

بغیر اس کے کہ اگر ایک جگہ کوئی درست کام نہیں کر سکا تو اسے دوسری جگہ کیوں نازل کیا جائے۔ اس افسر کا احتساب کرنے کے بجائے اسے نوازا جاتا ہے۔ اسی طرح جو نیئر افسران کو سینئر اسامیوں پر اور سینئر افسران کو جونیئر اسامیوں پر تعیناتی کے عمل سے ہر گریڈ کے افسران کا مورال گر رہا ہے اور ہر ایک کی سنیارٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس طرح سینئر افسران کی گروتھ اور اگلے گریڈ میں تعیناتی نہ ہونے سے تربیت نہیں ہو پا رہی ۔ صوبہ پنجاب میں افسر شاہی کی تعیناتی کا عجب نظام رائج ہے۔ ایک جانب گریڈ 20کے افسران کو گریڈ21 کی اسامی پر تعینات کر دیا گیا ہے ۔

 اس ساری بحث سے ایک نتیجہ اخذہوتا ہے کہ پنجاب میں تقررو تبادلے میرٹ کی بجائے پک اینڈ چوز کی بنیاد پر ہو رہے ہیںاور کسی بھی اسامی پر تعیناتی کرتے وقت گریڈ کم اور اس کا چہرہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ کے پی کے میں تقرر و تبادلے کے حوالے سے حالات قدرے بہتر ہیں وہاں پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس تمام تقرر و تبادلوں کے فیصلے کرتے ہیں۔

پنجاب میں اب حال ہی میں گریڈ 21 میں ترقی پانےوالے سیکرٹریوں کو ان کی موجودہ سیٹوں پر ہی ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے اور اس طرح گریڈ20کی سیکرٹری کی سیٹ پر گریڈ 21 کے افسران لگ گئے ہیں۔ ایک سادہ سی بات ہے کہ اگر پنجاب حکومت میرٹ پر تعیناتیاں شروع کر دے تو عوام اور محکموں اور حکومت کے نوے فی صد مسائل از خود حل ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں جس کا کام اُسی کو ساجھے۔