سٹی42: انڈین تارک وطن ماں باپ کے فرزند کاش پٹیل کے فیدرل بیورو آف انویسٹیگیشن کا ڈائریکٹر نامزد ہو جانے سے ہی امریکہ میں ٹرمپ کے کاموں پر تنقید کرنے والے صحافیوں اور دیگر ناقدوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی۔ کاش پٹیل کو گمنام انٹیلی جنس کھلاڑی نہیں بلکہ خاصا بڑبولا کردار ہیں۔ وہ کیا کچھ رہ چکے ہیں، اس پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔
کاش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک پروپیگنڈا بھونپو بھی ہیں۔ کاش نے زور زور سے ایف بی آئی پر - جس ایجنسی کا اب وہ انچارج بننے جا رہا ہے - پر بدعنوان ہونے کا الزام لگایا ۔ یہاں تک کہا کہ ایف بی آئی چھ جنوری کا "فالس فلیگ آپریشن" پلان کرنے میں ملوث ہے۔ گزشتہ صدارتی الیکشن کے بعد چھ جنوری کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اکسانے اور منظم مدد فراہم کرنے کے ساتھ سینکڑوں جنونیوں نے واشنگٹن کے ممنوعہ علاقہ میں گھس کر پارلیمنٹ پر قبضہ کیا تھا۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ اپنی پہلی صدارتی مدت کے آخری ڈھائی ہفتوں کے صدر تھے۔
اکاش پٹیل نے اس بات کی تحقیقات کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے کہ صدر (ٹرمپ) کے دشمن کون ہیں۔ اب کہا جا رہا ہے کہ کاش کی ایف بی آئی میں آمد سے بہت سے لوگ ڈرتے ہیں - FBI کے متعدد خصوصی ایجنٹ جو بائیڈن انتظامیہ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی تحقیقات میں شامل تھے، انہین بھی یقیناً کاش جیسے خطرناک پرسن سے خوف آئے گا جو ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لےئ کچھ بھی کر سکتا ہے کیونکہ وہ باتوں کی حد تک یہ کر چکے ہیں۔
یہ شاید وہ چیز ہے جس کے بارے میں نہ صرف سینیٹ میں ڈیموکریٹس بلکہ ان کے ساتھ ووٹ دینے والے 2 ریپبلکن بھی کہتے ہیں کہ سیاسی بدعنوانی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی ایجنسی کو سیاسی بنانے کی کوشش کے لیے سیلاب کے دروازے کھولنے جا رہا ہے جس کا بنیادی طور پر کئی سالوں سے غیر سیاسی کردار تھا، حالانکہ ایف بی آئی کے پاس لوگوں کی جاسوسی کی دستاویزی تاریخ موجود ہے جسے رچرڈ نکسن کی انتظامیہ سیاسی مخالفین سمجھتی تھی۔