سٹی42: اسرائیل کی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز حماس نے جو چار میتیں تابوتوں میں بند کر کے بھیجیں، ان کے تجزیہ سے پتہ چلا کی چار سالہ ایریل بیباس اور ایک سالہ کفیر بیباس کی باقیات تو بھیجی گئی ہیں لیکن تیسری لاش ان کی ماں شیری بیباس نہیں ہے۔
جمعہ کو علی الصبح سامنے آنے الی میڈیا رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے جمعات کو حماس کی طرف سے ریڈ کراس کے حوالے کئے گئے چار تابوتوں میں موجود لاشوں کی باقیات کا تجزیہ کروانے کے بعدبیباس کے خاندان کو مطلع کیا کہ ایریل اور کفیر بیباس کی لاشوں کی شناخت جمعرات کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے حوالے کئے جانے کے بعد کی گئی ہے۔
تاہم، ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ میں تیسری لاش ان کی والدہ شیری بیباس کی نہیں تھی، اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ابو کبیر فورنزک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین لاش کی شناخت نہیں کر سکے۔
آئی ڈی ایف نے بتایا ہے کہ حکام، فرانزک شواہد اور انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ نومبر 2023 میں دونوں کمسن لڑکوں کو دہشت گردوں نے ''بے دردی سے قتل'' کیا تھا۔ ایریل کی عمر 4 سال تھی اور کیفیر 10 ماہ کا تھا جب انہیں قتل کیا گیا۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ "یہ حماس کی طرف سے بہت سنگین خلاف ورزی ہے، جو کہ چار ہلاک شدہ یرغمالیوں کو واپس کرنے کے معاہدے کے تحت ضروری ہے۔" "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حماس شیری کو ہمارے تمام یرغمالیوں کے ساتھ گھر واپس بھیج دے۔"
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ "ہم اس مشکل وقت میں بیبا کے خاندان کے گہرے دکھ میں شریک ہیں اور شیری اور تمام مغویوں کی جلد از جلد گھر واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔"