ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شیری بیباس کے نام سے بھیجی گئی لاش شیری  کی نہیں نکلی، اسرائیل کا حماس سے خاتون کو واپس کرنے کا مطالبہ

Sheri Bibas, Forensic analysis, Alkabir Forensic Institute, Hostages deal, Gaza ceasefire, city42, Hamas Israel conflict, October 7 attack on Israel, city42
کیپشن: حماس نے جمعرات کو خان یونس میں جو چار تابوت اسرائیل کے حوالے کرنے کے لئے ریڈ کراس کو دیئے ان میں موجود لاشوں   کی باقیات کا اسرائیل پہنچتے ہی الکبیر فورنزک انسٹی ٹیوٹ میں تجزیہ کروایا گیا۔ اس تجزیہ کی جو رپورٹ اسرائیلی فوج نے میڈیا کو بتائی ہے اس کے مطابق دو تابوتوں سے ملنے والی لاشوں کی باقیات   30 سالہ شیری بیباس کے دو بیٹوں  ایریل اور کفیر کی ہین لیکن تیسی لاش جس کے تابوت پر شیری بیباس کا نام اور تصویر چسپاں کر کے بھیجا گیا، وہ شیری بیباس نہیں نکلی۔ اس فورنزک تجزیہ کے نتیجے سامنے آنے سے ایک تشویش ناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ آئی ڈی ایف نے حماس سے مطالبہ کیا ہے کہ شیری بیباس کو دوسرے یرغمالیوں کے ساتھ واپس کرے۔ شیری بیباس کی یہ فائل فوٹو ان کے اپنے گھر سے  7 اکتوبر 2023 کواغوا ہونے سے پہلے کی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل کی فوج نے انکشاف کیا ہے کہ جمعرات کے روز حماس نے  جو چار میتیں تابوتوں میں بند کر کے بھیجیں، ان  کے تجزیہ سے پتہ چلا کی چار سالہ ایریل بیباس اور ایک سالہ کفیر بیباس کی باقیات تو بھیجی گئی ہیں لیکن تیسری لاش ان کی ماں شیری بیباس نہیں ہے۔  

جمعہ کو علی الصبح سامنے آنے الی میڈیا رپورٹس مین بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی فوج نے جمعات کو حماس کی طرف سے ریڈ کراس کے حوالے کئے گئے چار تابوتوں میں موجود لاشوں کی باقیات کا تجزیہ کروانے کے بعدبیباس کے خاندان کو مطلع کیا کہ ایریل اور کفیر بیباس کی لاشوں کی شناخت جمعرات کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے حوالے کئے جانے کے بعد کی گئی ہے۔

تاہم، ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ میں تیسری لاش ان کی والدہ شیری بیباس کی نہیں تھی، اسرائیل ڈیفنس فورسز کا کہنا ہے کہ ابو کبیر  فورنزک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین لاش کی شناخت نہیں کر سکے۔

آئی ڈی ایف نے بتایا ہے کہ حکام، فرانزک شواہد اور انٹیلی جنس کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگاتے ہیں کہ نومبر 2023 میں دونوں کمسن لڑکوں کو دہشت گردوں نے ''بے دردی سے قتل'' کیا تھا۔ ایریل کی عمر 4 سال تھی اور کیفیر 10 ماہ کا تھا جب انہیں قتل کیا گیا۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ "یہ حماس کی طرف سے بہت سنگین خلاف ورزی ہے، جو کہ چار ہلاک شدہ یرغمالیوں کو واپس کرنے کے معاہدے کے تحت ضروری ہے۔" "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حماس شیری کو  ہمارے تمام یرغمالیوں کے ساتھ  گھر واپس بھیج دے۔"

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ "ہم اس مشکل وقت میں بیبا کے خاندان کے گہرے دکھ میں شریک ہیں اور شیری اور تمام مغویوں کی جلد از جلد گھر واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔"

Caption سات اکتوبر 2023 کو جب شیری بیباس کو ان کے دو بچوں کے ساتھ اغوا کیا گیا تو حماس کے اغوا کرنے والوں نے ان کی ویڈیو بھی بنائی تھی جو بعد میں سوشل میڈیا پر آئی تھی۔ اس فوٹیج مین شیری کو اپنے دونوں بچوں کو بازوں مین تھامے روتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس روز ان کے ساتھ ان کے شوہر یردن بیباس کو بھی اغوا کیا جنہین اغوا کرنے والے الگ سے غزہ لے کر گئے، یردن بیباس کو کچھ ہفتے پہلے  دوسرے یرغمالیوں کے ساتھ رہا کیا جا چکا ہے۔ ان کے بچوں کی لاشیں آج واپس دی گئیں، جبکہ شیری بیباس کے بارے میں  کہا جا رہا ہے کہ تابوت میں موجود لاش کی باقیات ان کی نہیں ہیں۔