سٹی42: انقلابی ترقی کی صدی کا پچیسواں سال بھی ظالمانہ عورت دشمن رسموں کے قیدی جاہلوں کا کچھ بگاڑے بغیر ہی تمام ہو گیا؛ سال 2026 میں جانے کے لئے دنیا مزید آگےبڑھنے کے منصوبے بنا رہی ہے اور پاکستان میں سوسائٹی کے جہالت کے جزیروں میں مقیم لوگ اب بھی فخر کے ساتھ مردوں کے باہمی جھگڑوں میں انتقام کے زیر اثر کم سن بچیوں کی زبردستی شادیاں کروا رہے ہیں۔
کم عمر معصوم بچیوں کو ظالمانہ ونی کی بھینٹ چڑھانے کا حالیہ واقعہ گھوٹکی سندھ میں رپورٹ ہوا ہے۔
گھوٹکی: جرگے نے 2کم سن بچیوں کو ونی کرنے اور 10لاکھ روپے جرمانےکا حکم سنادیا
گھوٹکی ضلع میں میرپور ماتھیلو کے نواحی گاؤں میں نام نہاد "جرگے" نے 2 کم سن بچیوں کو "ونی" کرنے اور 10 لاکھ روپے جرمانےکا حکم سنادیا۔
گاؤں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق گاؤں کے ایک نام نہاد بااثرشخص نے جرگہ بلا کر کسی پر "سیاہ کاری" کا الزام لگایا اور اس الزام کے زیر اثر جرگے نے دو کم عمر بچیوں کو زبردستی کسی کے ساتھ شادی کر دینے کا فیصلہ دے دیا۔ اس کے ساتھ ونی کا نشانہ بننے والے خاندان پر دس لاکھ روپیہ جرمانہ بھی کر دیا۔
متاثرہ خاندان کے سربراہ کا کہنا ہےکہ اس کے بیٹے پر سیاہ کاری کا جھوٹا الزام عائدکیا گیا، اپنے معصوم بچوں اور نابینا والدہ سمیت دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہوں، جس خاتون کے ساتھ سے میرے بیٹے پر سیاہ کاری کا الزام لگایا گیا اس نے اپنے شوہر سے خلع لے رکھی ہے اور وہ اس وقت لاڑکانہ اپنی والدہ کے پاس ہے جس ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
ایس ایس پی انور کھیتران نے بتایا کہ ایک بااثر ملزم کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔