ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ

(زاہد چودھری) پنجاب اسمبلی سے قانون سازی میں تاخیر، حکومت کا ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کیلئے آرڈیننس لانے کا فیصلہ،   وزیر قانون راجہ بشارت نے سپیشلائزڈ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو سمری تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔

حکومت کی جانب سے لاہور سمیت صوبے بھر کے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کیلئے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ایکٹ کی پنجاب اسمبلی سے منظوری میں تاخیر پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ نجکاری کا قانون آرڈیننس کے تحت نافذ کر دیا جائے۔

 صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے اس سلسلے میں سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کے نام مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ پنجاب میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز ریفارمز بل 2019 کی سمری ارسال کی جائے تاکہ آرڈیننس کے تحت اس قانون کا نفاذ عمل میں لایا جاسکے۔

 ذرائع کے مطابق آرڈیننس کے تحت ٹیچنگ ہسپتالوں کو پرائیویٹ طرز پر چلانے کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈیکس نے ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کسی بھی طرح ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حکومت پنجاب اسمبلی سے قانون سازی میں ناکامی پر اب آرڈیننس کا غیر جمہوری طریقہ اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

گرینڈ ہیلتھ الائنس نے اعلان کیا ہے کہ ایم ٹی آئی ایکٹ ہو یا آرڈیننس ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری کسی صورت منظور نہیں ہوگی۔