ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جنید جمشید نے اپنی دوسری اہلیہ سے آخری گفتگو کیا کی تھی؟

جنید جمشید نے اپنی دوسری اہلیہ سے آخری گفتگو کیا کی تھی؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: پاکستان کے ہر دلعزیز اور معروف نعت خواں و مذہبی اسکالر مرحوم جنید جمشید کی دوسری اہلیہ رضیہ جنید نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے جنید جمشید کی زندگی، ان کے عاجزانہ رویے اور حادثے سے قبل کے جو آخری گفتگو ہوئی اس کے بارے اہم انکشافات کیے۔

رضیہ جنید کا کہنا تھا جب سے میری شادی جنید جمشید سے ہوئی ہے تب سے میں نے دیکھا ہے کہ ان کا زیادہ تر وقت سفر بالخصوص فضائی سفر میں گزرتا تھا، انہوں نے طیارہ حادثے سے قبل آخری سفر چترال کا کیا تھا۔

جنید جمشید چترال روانگی سے قبل بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ وہ اکثر سفر میں رہتے تھے اور اس بار بھی وہ امریکہ سے واپسی کے بعد چترال کے لیے نکلے تھے، مجھ سے کہنے لگے کہ چترال میں تو بہت ٹھنڈ ہے، انہیں 5 سے 6 دنوں کے لیے جانا تھا لیکن ان کا سفر 10 دن کا ہو گیا تھا۔

اس دوران وہ مسلسل اپنے اہلِ خانہ کو پیغامات کے ذریعے اپنی خیریت سے آگاہ کرتے رہے، کیوں کہ وہاں نیٹ ورک دستیاب تھا، وہ چترال جانے سے قبل کچھ اداس لگ رہے تھے، جیسے انہیں کچھ روحانی انداز میں محسوس ہوا ہو۔

رضیہ جنید کا کہنا تھا کہ عدت مکمل ہونے کے بعد وہ خود جائے حادثہ پر گئیں تاکہ اس جگہ کو دیکھ سکیں جہاں ان کے شوہر کی زندگی کا اختتام ہوا۔

پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے وہ اس لمحے کو یاد کر کے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں جب انہیں حادثے کی خبر ملی، انہوں نے بتایا کہ جنید جمشید  کے مینیجر کی کال آئی اس نے حال احوال پوچھا اور پھر بتایا کہ وہ ایبٹ آباد جارہا ہے کیونکہ جنید جمشید کا طیارہ لاپتہ ہو گیا ہے۔

رضیہ جنید نے کال کے بعد اپنے بیٹے کو کہاں لیپ ٹاپ سے دیکھے کوئی خبر تو نہیں چل رہی،  بعد ازاں بیٹے نے انٹرنیٹ پر خبر کی تصدیق کرتے بتایا کہ طیارہ  حویلیاں گر کر تباہ ہو چکا ہے۔

رضیہ جنید  نے کہا کہ اس وقت ان پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا، لوگوں کی کالز آ رہی تھیں اور سب ان کے گھر پہنچ رہے تھے، لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھیں۔

واضح رہے کہ جنید جمشید 7 دسمبر 2016 کو پی آئی اے کے طیارہ حادثے میں شہید ہو گئے تھے، اور ان کی وفات آج بھی لاکھوں دلوں میں ایک گہرا درد چھوڑ گئی ہے۔