سٹی42: پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے عوامی جمہوریہ چین کے زنجیانگ اینڈ یغور اٹانومس زون (سنکیانگ) کے دورہ کے دوران آج کاشغر شہر کے فری ٹریڈ زون کا وزٹ کیا۔
کاشغر فری ٹریڈ زون پہنچنے پر صدر آصف علی زرداری کا استقبال کاشغر کی کمیونسٹ پارٹی کے سیکرٹری یاو ننگ نے کیا۔
اس موقع پر پاکستان کے صدر کو فری ٹریڈ و زون کے قیام اور ترقی کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔

کاشغر فری ٹریڈ زون ساڑھے تین مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
اس علاقہ میں ویئر ہاؤسنگ، لاجسٹکس، پروسیسنگ، کسٹمز اور ائیر فریٹ کی سہولیات موجود ہیں۔
کاشغر فری ٹریڈ زون کی تجارت دنیا کے 118 ممالک تک پھیلی ہوئی ہے، ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ کاشغر فری ٹریڈ زون سے پاکستان آنے والا شامان ٹرالرز کے ذریعہ سوست بارڈر عنور کر کے گلگت شہر پہنچایا جاتا ہے، یہاں سے یہ سامان پاکستان بھر میں کہیں بھی پہنچا دیا جاتا ہے۔
کاشغر فری ٹریڈ زون سے بجلی سے چلنے والی گاڑیاں، بیٹریاں، سولر سیل اور بہت سی ہائی ٹیک مصنوعات پاکستان اور دوسرے ملکوں کو برآمد کی جاتی ہیں۔
کاشغر فری ٹریڈ زون سڑک، ریل اور فضائی راستوں سے ایشیا اور یورپ سے منسلک ہے۔
کاشغر فری ٹریڈ زون کا الگ ا انٹرنیشنل ائیرپورٹ بھی ہے۔
یہ فری ٹریڈ زون سوست پورٹ، گلگت بلتستان اور گوادر پورٹ سے جڑا ہوا ہے۔
صدر مملکت نے فری ٹریڈ زون میں وسط ایشیائی ممالک، یورپ، جنوبی کوریا اور جاپان کے اسٹالز کا معائنہ کیا۔

صدر مملکت کو ڈیجیٹل ٹریڈ سینٹر اور ای کامرس نمائش گاہ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا اور ازبکستان، کرغزستان کے تعاون سے بننے والے انڈسٹریل پارکس پر بھی بریفنگ دی گئی۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا، وزیر سندھ سید ناصر حسین شاہ، اسلام آباد میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر اور بیجنگ میں پاکستان کے سفیر بھی ہمراہ تھے۔
