ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مصطفی قتل کیس؛’آگ لگانے سے پہلے مصطفیٰ کو کہا ہمت ہے تو بھاگو‘ملزم ارمغان کا چونکا دینے والا انکشاف

مصطفی قتل کیس؛’آگ لگانے سے پہلے مصطفیٰ کو کہا ہمت ہے تو بھاگو‘ملزم ارمغان کا چونکا دینے والا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : اغوا کے بعد قتل ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان غازی نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔جو دل دہلا دینے والے ہیں 

دوران تفتیش ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ اس نے 6 جنوری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر تشدد کیا، مصطفیٰ پر تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھا۔

تفتیشی حکام  کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان کی نشاندہی پر ڈیفنس خیابان مومن پر اس کے بنگلے پر کارروائی کی گئی، بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کر لیا گیا۔  ملزم ارمغان نے لوہے کی راڈ سے مصطفیٰ کو 2 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا، ملزم نے بتایا کہ تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔ ملزم نے بتایا کہ مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا، شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے، حب لے جاکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا۔

ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ کو کہا ڈگی اور شیشیے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جاؤ، مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔

تفتیشی حکام کو بیان میں ملزم نے بتایا کہ آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لیکر کراچی پہنچے۔