سٹی42: جب وہ ایک کہنہ مشق امریکی سٹیٹسمین کو صرف عمز زیادہ ہونے کے سبب "سلیپی جو" (سوتا ہوا / اونگھتا ہوا جو بائیڈن) کہتا تھا تو اس حملے کے غیر اخلاقی پہلو کو نظر انداز کر کے اسے الیکشن وار کا ایک زرا سوقیانہ حربہ سمجھ کر برداشت کر لیا جاتا تھا۔ اب اس نے جنگ میں ہزاروں پیاروں کو کھو چکی یوکرینی قوم کے لیڈر کو اچانک بے سبب "ڈکٹیٹر" قرار دے ڈالا تو سب اتحادی سر پکڑ کر بیٹھ گئے جبکہ دوست کے کیمپ سے ہوئے اس حملے کا نشانہ بننے والی یوکرینی قوم سکتے کی کیفیت میں ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے رہنما ولادیمیر زیلنسکی کو "بغیر انتخابات کے ایک آمر" قرار دیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حملے کا نشانہ بننے والے یوکرینی صدر زیلنسکی کی خطا یہ ہے کہ وہ اپنے ملک پر کوئی شرم ناک جنگ بندی معاہدہ مسلط کرنے کے درپے "اتحادی" سے یہ کہنے کی جسارت کر بیتھا ہے کہ جنگ بندی کے متعلق بات چیت میں یوکرین کو بھی تو شریک کیا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے، جو ڈکٹیٹر بہرحال نہیں ہیں کیونکہ انہیں نومبر 2024 کے الیکشن میں کروڑوں ووٹ ملے تھے اور مبینہ طور پر عرب امریکیوں کے ووٹوں نے انہین وائٹ ہاؤس پہنچایا تھا، امریکہ کے حلیف جنگ زدہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا پہلے تو اس بنا پر تمسخر اڑایا کہ وہ جنگ بندی کے مذاکرات میں شریک ہونے کا مطالبہ کرنے کی جرات کیوں کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کو تو جنگ شروع ہی نہیں کرنا چاہئے تھی حالانکہ جنگ روس نے شروع کی تھی۔ پھر یہ کہا کہ 3 سال سے تم ( زیلنسکی) جو کر سکتے تھے وہ کر لیا، اب جنگ بندی میں خود کروں گا۔ یہاں بھی بس نہیں ہوئی، اب ڈونلڈ ٹرمپ نے زیلنسکی کو "ڈکٹیٹر" قرار دے کر اس کا مزید تمسخر ہی نہیں اڑایا بلکہ تی نسال سے رِستا ہوا زخم کھدیڑ کر ہی رکھ دیا کیونکہ زیلنسکی کو "الیکشن کے بغیر یوکرین پر مسلط ڈکٹیٹر" دراصل روس کے صدر پیوتن قرار دیتے ہیں۔ زیلنسکی ڈکٹیٹر اس لئے ہیں کہ ان کے صدر کے عہدہ کی مدت پوری ہوئی تو یوکرین روس کے حملے کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور زیلنسکی نے مجبوراً مارشل لا لگا کر "ڈکٹیٹر" کی حیثیت سے جنگ کے دوران یوکرین کی قیادت جاری رکھی ہوئی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادی ملک یوکرین کے صدر زیلنسکی کا توہین سے بھرا تمسخر اڑانے کے لئے اپنے کاروباری پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" کا انتخاب کیا۔ یہ تقریباً "اَن سوشل" پلیٹ فارم دراصل توجہ ہی اس وقت حاصل کرتا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کوئی نہ کوئی اخلاق سے گری ہوئی بڑھک نما بات کرتے ہیں یا کوئی بے حد عجیب نعرہ بلند کرتے ہیں۔ تب ان کے پرستار حیران اور مخالف پریشان ہو کر "ٹروتھ سوشل" کی ویب سائٹ کو کلک کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، تاکہ دیکھیں کہ ٹرمپ نے اب کیا کر دیا ہے۔
"انتخابات کے بغیر ایک ڈکٹیٹر، زیلنسکی بہتر طور پر تیزی سے آگے بڑھیں یا اس کے پاس کوئی ملک باقی نہیں رہے گا،" ٹرمپ یوکرائنی رہنما کے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھتے ہیں، جن کی پانچ سالہ مدت گزشتہ سال ختم ہوئی تھی۔ یوکرین کے قانون میں جنگ کے دوران انتخابات کی ضرورت نہیں ہے۔
ایک سنجیدہ میڈیا آؤٹ لیٹ نے زیلنسکی پر ٹرمپ کے اس غیر شائستہ حملے کو شائستہ الفاظ میں اس ہیڈ لائن میں سمیٹا، " تعلقات خراب ہونے پر ٹرمپ نے یوکرین کے زیلنسکی کو 'ایک آمر' قرار دیا"
(@realDonaldTrump – ٹروتھ سوشل پوسٹ)
(ڈونلڈ جے ٹرمپ – فروری 19، 2025، 10:47 AM ET)
اس کے بارے میں سوچیں، ایک معمولی کامیاب کامیڈین، وولوڈیمیر زیلینسکی نے، ریاستہائے متحدہ امریکہ سے $350 بلین ڈالر خرچ کرنے کی بات کی، ایسی جنگ میں جانے کے لیے جو جیتی نہیں جا سکتی تھی، جو کبھی نہیں… pic.twitter.com/MIHpjNZWqe
— ڈونلڈ جے ٹرمپ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ٹروتھ پوسٹس (@TruthTrumpPosts) فروری 19، 2025
"اس کے بارے میں سوچئے، ایک معمولی طور پر کامیاب مزاح نگار، وولوڈیمیر زیلینسکی نے، ریاستہائے متحدہ امریکہ سے $350 بلین ڈالر خرچ کرنے کی بات کی، ایک ایسی جنگ میں جانے کے لیے جو جیتی نہیں جا سکتی تھی، جسے کبھی شروع نہیں ہونا تھا، لیکن ایک ایسی جنگ جو وہ، امریکہ کے بغیر۔ اور "ٹرمپ" کے بغیر کبھی بھی طے نہیں کر سکے گا،" ٹرمپ نے اپنا نام پانچ کیپیٹل لیٹرز میں لکھتے ہوئے یہ غرور بھری پوسٹ کسی دشمن نہین بلکہ امریکہ کے جنگ میں پھنسے اتحادی ملک کے لیدر کے متعلق لکھی، وہ ملک جس کے غالباً ہر گھر سے جنگ نے کسی نہ کسی کو لے لیا اور وہ تب بھی اپنے دفاع کے لئے مزاحمت کر رہے ہیں۔
"میں یوکرین سے محبت کرتا ہوں، لیکن زیلنسکی نے ایک خوفناک کام کیا ہے، اس کا ملک بکھر گیا ہے، اور لاکھوں غیر ضروری طور پر مر چکے ہیں - اور یہ جاری ہے..."
اس سے پہلے، زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر اخلاقی حملوں کے جواب میں کہا تھا کہ ٹرمپ روسی "غلط معلومات" کے بلبلے میں رہ رہے ہیں۔
یوکرائنی رہنما نے واشنگٹن پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بین الاقوامی تنہائی کو ختم کرنے میں مدد کرنے کا الزام بھی لگایا، اور کہا کہ وہ کیف کے اتحادیوں سے حفاظتی ضمانتیں چاہتے ہیں جو اس سال جنگ کو ختم کرنے کے قابل بنا سکیں۔
"بدقسمتی سے، صدر ٹرمپ، جن کا ہم امریکی عوام کے رہنما کے طور پر بہت احترام کرتے ہیں... اس غلط معلومات کیی سپیس میں رہتے ہیں،" زیلنسکی نے ماسکو پر ٹرمپ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کیف میں صحافیوں کو بتایا۔