ویب ڈیسک : بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں فلک شگاف نعروں کے درمیان ’انقلاب منچ‘ کے کنوینر اور مشہور طلبا لیڈر شریف عثمان ہادی کو سپردِ خاک کر دیا گیا،نمازِ جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی شرکت کی۔ جنازہ میں مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ’انقلاب منچ‘ کے کنوینر اور مشہور طلبا لیڈر شریف عثمان ہادی کو آج فلک شگاف نعروں کے درمیان ڈھاکہ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کے نماز جنازہ میں مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی جو کہ عثمان ہادی کو انصاف دلانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے بلند آواز میں نعرے بلند کر رہے تھے۔ ہفتہ کے روز ان کی آخری رسومات میں شامل ہونے کے لیے بنگلہ دیش کے مختلف حصوں سے لوگوں کی بھیڑ پارلیمنٹ ہاؤس احاطہ کی طرف پہنچتی نظر آئی۔ نمازِ جنازہ میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے بھی شرکت کی۔ انھوں نے عثمان ہادی کو ’بہادر‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’آج پورا بنگلہ دیش ہادی کو یاد کر رہا ہے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے لیے جو کچھ کیا، وہ یاد رکھا جائے گا‘‘۔
In my lifetime,I was fortunate enough to take part in such a massive Janaza (funeral) prayer of Osman Hadi
— Jashim (@jashim4truth) December 20, 2025
More than 200,000 people gathered; there were tears in everyone’s eyes, everyone is crying
Hadi was so fortunate at such a young age
How many people are blessed with such… pic.twitter.com/q5750MQKId
رپورٹ کے مطابق آج شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں لوگوں کی بھیڑ یقینی تھی، جس کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ قانون نافذ کرنیوالی ایجنسیوں نے پورے علاقے میں سخت نگرانی اور ضروری انتظامات کیے تھے۔ نمازِ جنازہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے صبح سے ہی نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے آس پاس لوگوں کی آمد و رفت تیز ہو گئی تھی۔ شریف عثمان ہادی کا آخری دیدار کرنے اور نمازِ جنازہ میں شامل ہونے کے لیے حامیوں اور عام لوگوں میں ایک الگ طرح کا جوش دکھائی دے رہا تھا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مانک میاں ایونیو پر ٹریفک پوری طرح بند کر دیا تھا۔
بنگلہ دیش کی حکومت کی طرف سے جاری نوٹس کے مطابق شریف عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ہفتہ کی دوپہر تقریباً 2 بجے نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی گئی۔ انکا جسد خاکی ڈھاکہ یونیورسٹی لے جایا گیا۔ یونیورسٹی کی سنٹرل مسجد میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور وہیں تدفین سے متعلق دیگر رسومات ادا کی گئیں۔ اہل خانہ کی خواہش پرشریف عثمان ہادی کو قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کی قبر کے پاس دفن کیا گیا ہے، ڈھاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس موقع پر خصوصی تیاریاں کی تھیں۔ چیف ایڈوائزر پریس ڈیپارٹمنٹ نے جنازہ میں شامل ہونے والوں سے اپیل کی تھی کہ وہ کسی بھی طرح کے بیگ یا بھاری سامان لے کر نہ پہنچیں۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ ہاؤس اور آس پاس کے علاقوں میں ڈرون اڑانے پر بھی پوری طرح سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ڈھاکہ میٹرو پولیٹن پولیس نے سیکورٹی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈھاکہ میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کی تعینات کیا۔