سٹی42: ملک کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اٹک، حسن ابدال، کامرہ، حضر اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کھاریاں اور دیگر قریبی علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے۔ مقامی لوگ خوف کے مارے گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے اور فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے۔اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ محفوظ رہیں اور زلزلے کے بعد کسی بھی غیر مستند اطلاعات پر بھروسہ نہ کریں۔
اسلام آباد کے قریب بھی شدت 4.2 کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صبح 9 بج کر 37 منٹ پر اسلام آباد اور گردونواح میں زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ زلزلہ پیما کے مطابق زلزلے کا مرکز تربیلا سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا اور زلزلہ زمین کی سطح سے 15 کلومیٹر گہرائی میں آیا۔ خوش قسمتی سے زلزلے کے جھٹکے شہریوں نے محسوس نہیں کیے اور کسی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے،زلزلے کے جھٹکے مالاکنڈ، دیر اور چترال سمیت بالائی علاقوں میں محسوس کیے گئے، جبکہ خیبر کے علاقے لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں بھی زمین لرز گئی۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 5.7 ریکارڈ کی گئی، اور اس کی گہرائی 12 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز ہندوکش کے علاقے میں بتایا گیا جو افغانستان میں واقع ہے۔زلزلے کے باعث متعدد علاقوں میں لوگ گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے اور کلمہ طیبہ کا ورد کیا۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
زلزلے کیوں آتے ہیں؟
زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔
زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔ زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔ کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں۔
زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔ پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔