(ویب ڈیسک) ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب میں اسرئیلی اور امریکی حملے میں شہید ہونے والے اسکول کے بچوں کے والدین نے عیسائیوں کے روحانی پیشوا کو خط لکھا ہے۔ انھوں نے تشدد کی مخالفت اور حملے میں ہلاک ہوئے بچوں کی آواز بننے پر پوپ لیو کا شکریہ ادا کیا ۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی ابتدائی لہر کی زد میں صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب کا اسکول بھی آیا۔ اسکول پر ہوئے حملے کے نتیجے میں168 افراد جاں بحق ہوئے ، جن میں بارہ سال کی عمر کے110 بچے،26 اساتذہ اور 4 والدین شامل تھے اسکول پر ہوئے حملے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ اس حملے کے متاثرین نے پوپ لیو کو خط لکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خط کا آغاز میں والدین نے لکھا کہ درد دلوں میں سمیٹے لرزتے ہاتھوں سے وہ یہ خط لکھ رہے ہیں ۔ وہ لکھتے ہیں کہ بچوں کے گزرجانے کے بعد اب ان دنوں وہ ان کے جلے ہوئے بیگ اور خون آلود نوٹ بُکس کو اپنے سینوں سے لگاتے ہیں ۔ خط میں والدین نے پوپ لیو اپیل کی کہ وہ روشن خیالی سے کام کریں تاکہ اس سرزمین پر کہیں بھی کوئی والدین اپنے بچوں کی قبر پر لوری گانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ خط میں والدین نے پوپ لیو اقوال کا بھی جابجاذکر کیا ہے۔انھوں نے مزید لکھا جب دھماکوں کی آواز سے ہمارے رونے کی آوازوں پر دنیا کی کان بندہوگئے اس صورت میں آپ کے (پوپ) کے پرامن الفاظ کی گونج ہمارے زخموں پر مرہم بن گئے ۔ پوپ لیو کی عالمی طاقتوں سے تشدد اور دھماکوں کی سطح کو کم کرنے کی جُرأتمندانہ اپیلوں کی یاد دلاتے ہوئےمناب اسکول کے متاثرین نے مزید لکھا ہے کہ پوپ کا ہر لفظ بچوں کو بچانے اور بڑھتی ہوئی نفرت، تشدد اور معصوم جانوں کے ضیاع کے بارے میں دنیا کے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش تھی۔
مناب اسکول کےشہید بچوں کے والدین نے لکھا کہ ہم جنگ کے دوران صداقت کی آواز بننے اور ہمیں یہ یاد دلانے کے لیے آپ کے شکر گزار ہیں کہ پائیدار امن اور سکون ‘طاقت اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بات چیت کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔انھوں نے مزید لکھا کہ وہ جانتے ہیں کہ اب ان کے بچے کبھی واپس نہیں آئیں گے لیکن پوپ جیسی شخصیت بے آواز بچوں کی آواز بن کر رہ سکتی ہے اور تمام راستے کھولنے کے لیے کام کر سکتی ہے تاکہ اس زمین پر کہیں بھی کسی والدین کو ایسے سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اسلامی ثقافت اور کمیونی کیشن آرگنائزیشن کو بھیجا گیا خط ایرانی بین المذاہب ڈائیلاگ پالیسی اینڈ کوآرڈینیشن کونسل کے ذریعے پوپ لیو کو پہنچایا جائے گا۔
یاد رہے کہ پوپ لیو نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر یکطرفہ حملے کے بعد یکم مارچ کو مناب حملے کے بعد ،سینٹ پیٹرز اسکوائر سے اپیل کی تھی کہ تشدد کو بڑھنے سے روکا جائے اس سے پہلے کہ اس سے ناقابل تلا فی نقصان ہو ۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن و استحکام ایک دوسرے کو دھمکیوں سے ور نہ ہی تباہی، درد اور موت کے بیج بونے والے ہتھیاروں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف بات چیت، ذمہ دارانہ اور معقول بات چیت کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔امریکی صدرٹرمپ نے جب سوشل میڈیا پر ایران کی پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دی تھی تو تب بھی پوپ لیونے اس کی مذمت کی تھی اورکہا تھا کہ پوری قوم کے خلاف ایسی دھمکی حقیقت میں نا قابل قبول ہے۔
ایران کے صوبہ ہرمزگان کے شہر مناب کے اسکول پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری میں168 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس حملے میں سات سے بارہ سال کی عمر کے110 بچے،26 اساتذہ اور 4 والدین شامل تھے۔