رائو دلشاد: ٹریفک جرمانوں میں کمی سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری میں سست روی برقرار ہے، اور آج بھی یہ بل منظوری کے لیے ایجنڈے پر پیش نہ کیا جا سکا۔
ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ اس بل کی ترامیم یکم اپریل کو منظور کر چکی ہے، تاہم تاحال اسے حتمی منظوری نہیں مل سکی۔
یاد رہے کہ ٹریفک جرمانوں میں ہوشربا اضافہ پہلے آرڈیننس کے ذریعے کیا گیا تھا، جس کے بعد عوامی ردعمل پر جرمانوں میں کمی کی تجاویز سامنے آئیں۔
بل کے متن کے مطابق موٹر سائیکل کے چند چالان 2 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے کیے جائیں گے جبکہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 2 ہزار روپے مقرر ہوگا۔ رکشے کے لیے بعض خلاف ورزیوں پر جرمانہ 3 ہزار سے کم کر کے 1 ہزار روپے جبکہ سنگین خلاف ورزی پر 2 ہزار روپے ہوگا۔
اسی طرح کار اور جیپ کے چالان چند خلاف ورزیوں پر 5 ہزار سے کم کر کے 3 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 5 ہزار روپے جرمانہ برقرار رکھا جائے گا۔ اوور سپیڈنگ کے جرمانوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
مزید برآں 2000 سی سی گاڑیوں کے لیے کم از کم جرمانہ 2 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 10 ہزار روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ مزدا، کوسٹر اور لائٹ مسافر وینز کے جرمانے 20 ہزار سے کم کر کے 7 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔