رمضان المبارک میں شوگر کے مریضوں کے لئے ضروری احتیاطی تدابیر

sugar level checking machine
sugar level checking machine

(ویب ڈیسک)ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ رمضان المبارک کے سارے روزے رکھے لیکن روزے کے خواہشمند شوگر کے مریض سوال پوچھتے ہیں کہ روزہ کیسے رکھا جائے؟

شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کے لئے طبی ماہرین کی رائے ہے کہ اگر شوگر کے مریضوں کا ایچ بی اے ون سی لیول 6 سے 7 فیصد کے درمیان ہے تو وہ روزہ رکھ سکتے ہیں لیکن اگر ان کا ایچ بی اے سی لیول 9 سے بڑھا ہوا ہوا ہے تو ان کو ڈی ہائیڈریشن کی وجہ سے روزہ رکھنے سے منع کیا جاتا ہے۔

 طبی ماہرین کے مطابق شوگر کے مریضوں سمیت تمام افراد افطار سے سحری کے درمیان2 سے ڈھائی لیٹر پانی لازمی پیئیں۔ شوگر کے مریضوں کو ایسے کاربوہائیڈریٹ استعمال کرنا چاہییں جو مکمل اناج پر مبنی ہوں مثلاً چکی کے آٹے کی روٹیاں، پراٹھا ، گندم یا جو کا دلیا،براؤن بریڈ ،کاربوہائیڈریٹ کے پورشن سحری میں لیے جاسکتے ہیں۔پروٹین کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اس میں ایک عدد انڈا، کباب ، دالیں ، چکن ،قیمہ بینز ، اس قسم کی کوئی بھی چیز مریض روٹی اور پراٹھے کے ساتھ لے سکتا ہے۔

افطار میں شوگر کے مریض ایک یا دوکھجور کے ساتھ تازہ پھل سے بنے جوس جس میں آدھی مقدار پانی کی شامل ہو یا مشروب یا پھر دہی یا لسی یا دودھ کے ساتھ پھل والے شیک سے روزہ افطار کرسکتے ہیں۔ذیابطیس کے مریضوں کے ضروری ہے کہ افطار کرنے کے بعد رات کا کھانا ہلکی اور متوازن غذاو¿ں والا استعمال کریں۔ مثلاً سلاد ، دال ، سبزی ، چکن اور چکی والے آٹے کی روٹی کھائی جاسکتی ہے۔ جو مریض افطار میں کھانا کھانا چاہیں وہ کجھور اور مشروب سے روزہ کھولنے کے بعد رات کا کھانا کھاسکتے ہیں۔

شوگر کے مریضوں کے لیے رمضان کے پہلے ہفتے میں شوگر کی مانیٹرنگ بے حد ضروری ہے خاص طور پر سحری سے پہلے اور افطار کے بعد ان کے لیے شوگر لازمی طور پر مانیٹر کرنا ضروری ہے تاکہ اس کے پیش نظر غذائی شیڈول مرتب کیا جاسکے۔شوگر کے مریض ایک کپ فروٹ چاٹ میں چینی کے بجائے ایک نارنگی کا رس ملاسکتے ہیں۔چائے اور کیفین کا استعمال کم سے کم کریں۔ مرغن، مصالحہ دار اور تلی ہوئی اشیائ جسم میں پانی کی طلب بڑھاتی ہیں لہٰذا جسم کو ہائیڈریٹ رکھنے کے لیے ان چیزوں سے اجتناب رکھیں۔