پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا

 پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا

(درنایاب) پاکستان کی تاریخ کا سب سےبڑا اورنج لائن ٹرین منصوبہ ساڑھے تین سال بعد بھی نامکمل،  پیکج ٹو اور تھری حکومت کے لئے در سر بن گیا، ادھورے کاموں کے باعث منصوبہ 31 جولائی 2019 کو مکمل نہیں ہوگا۔

اورنج لائن ٹرین منصوبہ ایل ڈی اے ، ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور نیسپاک کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گیا، ایل ڈی اے نے الیکشن کے بعد بغیر کسی وجہ منصوبے کی ادائیگیاں روک دیں، پی ٹی آئی کی حکومت نے پہلے منصوبے کا آڈٹ اور پھر سپریم کورٹ کے ایکشن پر دوبارہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا، منصوبے کا کوئی سیاسی والی وارث نہ ہونا بھی تاخیر کا باعث بنا، ایل ڈی اے انجنئیرنگ ونگ نے ایک سال تک اورنج لائن کی ٹرینوں کا ٹینڈر ہی نہ کیا جبکہ اورنج لائن کے لئے مختص 10 ارب کا ریوالنگ فنڈ بھی روکے رکھا، کنٹریکٹرز کو ڈیڑھ ارب سے زائد ادائیگیاں مسلسل التوا کا شکار ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایل ڈی اے اور چیف انجینئر ادائیگی کے لئے دستخط کرنے کو تیار نہیں، اس سے قبل کنٹریکٹرز نے اپریل 2019 میں سول ورکس مکمل کرنا تھا، پیکج ون اور فور پر کام خوش اسلوبی سے جاری رہا جبکہ پیکج ٹو اور تھری پر غیرسنجیدہ کام سے چائینیز بھی نالاں ہیں، 16 اپریل کو سبطین فضل حلیم نے کام کی سست روی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی، سپریم کورٹ نے سبطین فضل حلیم پر بحیثیت ایم ڈی ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ذمہ داری نہ نبھانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے اورنج لائن ٹرین کو چلانے کی ڈیڈ لائن 31 جولائی 2019 دی تھی، پنجاب حکومت اپنی ہی ڈیڈ لائن کو پورا کرنے میں ناکام ہے، چائینیز کمپنی سی آرنورینکو ٹسٹنگ اور کمیشنگ کے لئے وقت تین سے بڑھا کر چھ ماہ کرنے پر زور دے رہی ہے