ملک اشرف : ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کے حق میں بڑی قانونی کامیابی، لاہور ہائیکورٹ نے ایڈیشنل آئی جی سی سی ڈی سہیل ظفر چٹھہ کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست خارج کردی۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ایڈوکیٹ شاہد محمود کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار میاں شاہد محمود ایڈوکیٹ پیش ہوئے ، پنجاب حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس اور سی سی ڈی کی جانب سے چوہدری ناصر عباس پنجوتہ پیش ہوئے ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا میاں صاحب اور کوئی کام نہیں رہ گیا ، جو یہ والا کام شروع کردیا ،ج میاں شاہد محمود ایڈوکیٹ نے جواب دیا سی سی ڈی کے ظلم کی وجہ سے سارے کام چھوڑ دئیے ہیں ، سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی تعیناتی چیلنج کی ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سی سی ڈی کے نوٹفکیشن کے بارے میں بتائیں ،آپ نے سی سی ڈی کے سربراہ کی تعیناتی کس قانون کے تحت چیلنج کی ، وکیل درخواست گزار نے جواب دیا میری چھ گراؤنڈز ہیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا قانون کے حوالے سے معاونت کرنی ہے، مشہوری کےلئے ادھر ادھر کی باتیں نہیں کرنا ، وکیل نے جواب دیا جب معاونت کروں گا تو آپ بھی میرے ساتھ ہونگے ، آپ میرے استاد ہیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہابالکل آپ میرے شاگرد ہیں ، لیکن مجھے قانون بتائیں ،اس پٹیشن میں اٹھائے گئے سوالات بارے بارے قانون بتائیں ، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار نے عدالت سے حقائق چھپائے ہیں ، درخواست گزار نے پہلے بھی پٹیشن دائر کررکھی ہے ،چیف جسٹس نے اس میں درخواست گزار سے سوالات اٹھائے ، اور اس نے پٹیشن میں ترمیم کے مہلت لے رکھی ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا پہلے سے دائر کی پٹیشن کا یہاں ذکر کیوں نہیں کیا ، آپ نے اس عدالت سے حقائق کیوں چھپائے ، درخواست گزار وکیل نے جواب دیا ایک بندہ دو محکموں کا سربراہ بن گیا ہے، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ دیہاتی دانشور ہیں ،آپ نے کورٹ کا زیادہ ٹائم ضائع کیا تو عدالت کاسٹ ڈال کر پٹیشن خارج کرے گی ، آپ نے پرینت لاء چیلنج کیا ہوا وہاں جائیں ، درخواست گزار وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آپ یہ پٹیشن بھی چیف جسٹس کو بھجوادیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست گزار وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا میں پوسٹ مین ہوں کہ ادھر پٹیشن بھیج دوں ،کیا میں جج نہیں ہوں ، آپ مشہوری کے لئے یہ سب کچھہ کررہے ہیں مجھے پتہ چل گیا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا سی سی ڈی والے زیادتی والے ملزمان کے مخصوص اعضاء پر پستول چلاتے ہیں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سپریم کورٹ کے وکیل آپ کے بال سیاہ ہیں ،قانون کی بات کریں ، جسٹس شہرام سرور چوہدری نے پٹیشن چیف جسٹس کی عدالت بھجوانے کی استدعا مسترد کردی اور وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ وہاں متفرق درخواست دائر کریں ، عدالت نے درخواست واپس لینے کی بناء پر خارج کردی۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App