ایل ڈی اے کی کنٹرولڈ ایریا میں گرفت کمزور پڑنے لگی

ایل ڈی اے کی کنٹرولڈ ایریا میں گرفت کمزور پڑنے لگی

( در نایاب ) ایل ڈی اے کے کنٹرولڈ ایریا غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بن گئے، سزا اور جزا کے نظام پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے سے ٹاؤن پلاننگ کے کرپٹ افسران اور مافیا کو چھوٹ مل گئی۔

ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا میں گھروں کی تعمیر پلر کنسٹرکشن پر کرنے کی اجازت کا غلط استعمال جاری ہے۔ شہر میں متعدد عمارتوں نے گھروں کے نقشے پاس کروا کر کمرشل تعمیر اور استعمال شروع کردیا ہے۔ ایل ڈی اے کنٹرولڈ ایریا میں کمرشل فروزن روڈز پر بھی بڑے بڑے پلازے اور عمارتیں بننا معمول بن گیا ہے۔

لاہور کینال، رائیونڈ متبادل روڈ، پائین ایونیو، اولڈ ڈیفنس روڈ، ٹاؤن شپ، کالج روڈ میں تعمیرات کی گئیں۔ چند روز قبل ٹاؤن شپ میں کمرشل عمارت اور ڈیفنس روڈ پر یاسر بروسٹ کو جزوی طور پر مسمار کرنے کی کوشش کی گئی۔

 دونوں عمارتوں کو مکمل طور پر مسماری کی بجائے صرف فرنٹ پر دیوار، بورڈز اور شٹرنگ مسمار کی گئی۔ ذرائع کے مطابق ٹاؤن شپ اور ڈیفنس روڈ پر مطلوبہ نتائج نہ ملنے پر ڈی جی آفس نے اظہار برہمی کیا۔ ذرائع کے مطابق چیف ٹاؤن پلانر کی کمزور ایڈمنسٹریشن کے باعث ٹاؤن پلاننگ افسران و عملہ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔

ادھر ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے ڈویلپمنٹ چارجز جمع کرانے کی تاریخ میں پندرہ جون تک توسیع کردی ہے۔ ایڈیشنل ڈی جی اربن پلاننگ رانا ٹکا خان نے ایک ماہ کی توسیع کی تجویز ڈی جی کو ارسال کی تھی۔

ایل ڈی اے سٹی کے ڈویلپمنٹ چارجز کو کورونا وائرس صورتحال کے پیش نظر بڑھایا گیا ہے۔ ایل ڈی اے سٹی کے ڈویلپمنٹ چارجز جمع کرانے کی ڈیڈ لائن میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی ہے۔