ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

رحم دل عدالت نے بیوی کو گھریلو مشقت کا پورا پورا معاوضہ دلوا دیا

Domestic labor, unpaid Domestic jobs, city42, Chinees court's verdict, Divorce case , city42, Breaking News
کیپشن:  گھر میں کھانا بنانا، برتن دھونا، کپڑے دھونا، گروسری اور دیگر ضروریات کی خریداری، صفائی ستھرائی_  سب کام عورتیں کرتی ہیں اور  یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ دراصل کچھ نہیں کرتیں;  گھر کے کام کرنا تو ان کی ذمہ داری ہے، آخر وہ گھر میں کھانا بھی تو کھاتی ہیں! محض کھانے کے عوض بے تحاشا مشقت کرنے والی خواتین اس  صورتحال کی کبھی شکایت نہیں کرتیں، لیکن طلاق کے مقدمہ میں جب یہ  گھریلو مشقت کے معاوضہ کا سوال عدالت کے سامنے آیا تو عدالت نے پورا انصاف کر دیا اور  شوہر کو  98 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا ۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  عدالت نے شوہر کو  بیوی کےروزانہ گھریلو کام کرنے کے عوض 98  لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

وسطی چین کی ایک عدالت میں طلاق کا ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس  مقدمے میں خاتون نے مطالبہ کیا تھا کہ شوہر کان سے طلاق لینا چاہتا ہے، اسے طلاق تو دے دی جائے لیکن   تصفیے کے تحت خاتون کو  50 ہزار یوآن ادا کیے جائیں۔

رحم دل  عدالت نے اپنے حکم میں شوہر کو ڈھائی لاکھ یوآن (98 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد) ادا کرنے کی ہدایت کی۔

خاتون نے مقدمے کی درخواست میں یہ بھی استدعا کی تھی کہ اس نے شوہر کے گھر میں جو گھریلو کام کیے ان کا معاوضہ 50 ہزار یوآن  ادا کیا جانا چاہیے۔

اس خاتون Hu ( پورا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے 2011 میں وانگ سے شادی کی تھی اور اسی سال ان کے ہاں بیٹی کی پیدائش بھی ہوئی۔

وقت گزرنے کے ساتھ دونوں میں کافی جھگڑے ہونے لگے خاص طور پر بچی کی تعلیم کے حوالے سے کافی تللخیاں ہوئیں۔

اکتوبر 2022 میں خاتون کی شوہر سے شدید لڑائی ہوئی اور خاتون نے صوبہ ہینان میں واقع شوہر کا گھر چھوڑ دیا اور وہ دونوں علیحدہ رہنے لگے۔

خاتون نے 2024 میں زوانگ یون  Zhongyuan کی عدالت میں طلاق کا مقدمہ دائر کیا۔

خاتون نے مطالبہ کیا تھا کہ بیٹی اس کے حوالے کی جائے جبکہ جائیداد کو دونوں میں تقسیم کیا جائے، ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا کہ دس سال سے زائد عرصے تک رہنے والی شادی کے دوران انہوں نے گھریلو کام بلامعاوضہ کیے اور شوہر اس کے عوض 50 ہزار یوآن معاوضہ ادا کرے۔

خاتون کے مطابق شادی کے بعد اس نے ملازمت چھوڑ کر پورا وقت خاندان کے لیے مختص کر دیا اور روزانہ بلاناغہ متعدد گھریلو کام کیے مگر وانگ نے اپنے گھریلو فرائض  کبھی پورے نہیں کیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں سب کو دنگ کر دیا اور بیٹی کو خاتون کے حوالے کرنےکے ساتھ ساتھ  طلاق یافتہ شوہر سے بیٹی کی پرورش کا خرچہ اٹھانے کا حکم دیا۔

اسی طرح شوہر کو حکم دیا گیا کہ وہ خاتون کو ڈھائی لاکھ یوآن ادا کرے جو اس کے برسوں کے گھریلو کاموں کا  جائز معاوضہ ہوگا۔ عدالت نے اس معاوضہ کے تعین کے لئے خٓتون کی شادی سے پہلے والی ملازمت کی آمدن اور گھریلو کاموں کے عمومی معاوضہ دونوں سے مدد لی اور خاتون کے ساتھ پورا پورا انصاف کر دیا۔