سٹی42: نادان دوست ست دانا دشمن بہتر ہے؛ یہ محاورہ اب یورکین کے عوام اور حکومت کے درپیش ہے جنہیں ایک طرف خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمن رشیا کے صدر پیوٹن کے ساتھ چومکھی درپیش ہے تو دوسری طرف ان کے نام نہاد دوست امریکہ کے صدر ہیں جو تنہا ہی کئی دشمنوں سے زیادہ دشمنی کرنے پر کمربستہ ہیں۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر روس کے حملے سے شروع ہونے والی بدنام جارحانہ جنگ کی کرونولوجی ہی بدل ڈالی اور امریکہ کے دوست یوکرین کو ہی جنگ کا آغاز کرنے کا ذمہ دار قرار دے ڈالا تو یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو وضاحت کرنا پڑی کہ جنگ کس نے شروع کی تھی۔
زیلنسکی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن روسی ساختہ "غلط معلومات کی سپیس " میں رہ رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منگل کو سعودی عرب میں امریکی اور روسی حکام کے مذاکرات کے پہلے دور کے لیے دونوں ملکوں کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے ان شکایات کو مسترد کر دیا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کیف (یوکرین) کو نشست دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس ہی گفتگو میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جنگ( جس کے بارے میں دنیا کا خیال ہے کہ یہ روس نے یوکرین پر حملہ کر کے شروع کی تھی) تو یوکرین نے شروع کی تھی۔
ٹرمپ نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کی طاقت ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھی طرح سے چل رہی ہے۔ لیکن آج، میں نے سنا، 'اوہ، ٹھیک ہے، ہمیں مدعو نہیں کیا گیا تھا، ٹھیک ہے، آپ تین سال سے وہاں موجود ہیں۔' آپ کو اسے ختم کر دینا چاہیے تھا…،” ٹرمپ نے فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنی مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا۔
ٹرمپ نے جنگ مین الجھے ہوئے یوکرینی عوام، فوجیوں اور حکومت کو بلا امتیاز ڈانٹتے ہوئے کہا، "آپ کو یہ (جنگ) کبھی شروع نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آپ کو ایک ڈیل کرنا چاہئے تھا۔ "میں یوکرین کے لیے ڈیل کر سکتا تھا۔"
ٹرمپ کی اس بلڈوزنگ پالیسی پر یوکرین سے زیادہ یورپ میں غصہ ہے، امریکہ کے اتحادی ملک حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ اتحادی ملک کا بازو مروڑ کر اس کو مشورہ اور مذاکرات مین بھی شریک کئے بغیر اس سے جنگ بند کروانے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔ یورپ میں اس خیال پر مکمل اتفاق ہے کہ یوکرین میں روس کے حملے کو روکنے کے لئے کوشش درحقیقت یورپ کا ہی دفاع ہے۔ یورپی ممالک کے سرکردہ لیڈر یوکرین وار کے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یکطرفہ سرنڈر جیسی پالیسی پو بحث کے لئے گزشتہ ہفتے پیرس میں جمع ہوئے تھے۔
یوکرین اور روس کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زیلنسکی کے ساتھ بات چیت کے لیے کیف کا دورہ کر رہے ہیں۔ ایلچی کا یہ وزٹ سعودی عرب میں اعلیٰ امریکی اور روسی سفارت کاروں کی ملاقات کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔