ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

صدر  زیلنسکی نے ٹرمپ کو "روسی جھوٹ"کا قیدی قرار دے دیا

Russia Urkine war,Volodymyr Zelenskyy , city42
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 فروری 2025 کو ریاستہائے متحدہ کے فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں خطاب کر رہے ہیں [Roberto Schmidt/AFP] اس میڈیا گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ جنگ میں الجھے یوکرین کے صدر کی جانب سے جنگ بندی کے لئے مذاکرات میں یوکرین کو بھی شامل کرنے کے مطالبہ کا تمسخر اڑایا۔ دوسری تصویر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی  انقرہ مین ترکی کے صدر  رجب طیب اردوان کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں لی گئی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  نادان دوست ست دانا دشمن بہتر ہے؛ یہ محاورہ اب یورکین کے عوام اور حکومت کے درپیش ہے جنہیں ایک طرف خود سے کئی گنا زیادہ طاقتور دشمن رشیا کے صدر پیوٹن کے ساتھ چومکھی درپیش ہے تو دوسری طرف ان کے نام نہاد دوست امریکہ کے صدر ہیں جو تنہا ہی کئی دشمنوں سے زیادہ دشمنی کرنے پر کمربستہ ہیں۔  اب ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین پر روس کے حملے سے شروع ہونے والی بدنام جارحانہ جنگ کی کرونولوجی ہی بدل ڈالی اور امریکہ کے دوست یوکرین کو ہی جنگ کا آغاز کرنے کا ذمہ دار قرار دے ڈالا تو  یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی کو وضاحت کرنا پڑی کہ جنگ  کس نے شروع کی تھی۔

 زیلنسکی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین کے روس کے ساتھ جنگ ​​شروع کرنے کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن روسی ساختہ "غلط معلومات کی سپیس " میں رہ رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو سعودی عرب میں امریکی اور روسی حکام کے مذاکرات کے پہلے دور کے لیے دونوں ملکوں کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے ان شکایات کو مسترد کر دیا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکرات میں کیف (یوکرین)  کو نشست دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ اس ہی گفتگو میں ٹرمپ نے الزام لگایا کہ جنگ( جس کے بارے میں دنیا کا خیال ہے کہ یہ روس نے یوکرین پر حملہ کر کے شروع کی تھی) تو یوکرین نے شروع کی تھی۔ 

ٹرمپ نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ میرے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کی طاقت ہے، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت اچھی طرح سے چل رہی ہے۔ لیکن آج، میں نے سنا، 'اوہ، ٹھیک ہے، ہمیں مدعو نہیں کیا گیا تھا، ٹھیک ہے، آپ تین سال سے وہاں موجود  ہیں۔' آپ کو اسے ختم کر دینا چاہیے تھا…،” ٹرمپ نے فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنی مار-اے-لاگو اسٹیٹ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا۔

ٹرمپ نے جنگ مین الجھے ہوئے یوکرینی عوام، فوجیوں اور حکومت کو بلا امتیاز ڈانٹتے ہوئے کہا، "آپ کو یہ (جنگ)  کبھی شروع نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آپ کو ایک ڈیل کرنا چاہئے تھا۔  "میں یوکرین کے لیے ڈیل کر سکتا تھا۔"

Caption یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس مین اظہار خیال کر رہے ہیں۔ زیلنسکی کی گفتگو کا مرکزی موضوع روس کے ساتھ ٹرمپ کے مذاکرات تھے جن مین جنگ کے اصل فریق یوکرین کو شامل ہی نہیں کیا جا رہا۔ 

ٹرمپ کی اس بلڈوزنگ پالیسی پر یوکرین سے زیادہ یورپ میں غصہ ہے، امریکہ کے اتحادی ملک حیرت سے دیکھ رہے ہیں کہ اتحادی ملک کا بازو مروڑ کر اس کو مشورہ اور مذاکرات مین بھی شریک کئے بغیر اس سے جنگ بند کروانے کا یہ کونسا طریقہ ہے۔  یورپ میں اس خیال پر مکمل اتفاق ہے کہ یوکرین میں روس کے حملے کو روکنے کے لئے کوشش درحقیقت یورپ کا ہی دفاع ہے۔ یورپی ممالک کے سرکردہ لیڈر  یوکرین وار کے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یکطرفہ سرنڈر جیسی پالیسی پو بحث کے لئے گزشتہ ہفتے پیرس میں جمع ہوئے تھے۔ 

Caption یوکرین کے عوام اور حکومت دونوں پریشان ہیں کہ ان کا اب تک اتحادی امریکہ ان کی روس کے ساتھ جنگ بند کرنے کے لئے روس کے ساتھ ڈیل کر رہا ہے اور جنگ کا تین سال سے نشانہ بنے یوکرین سے  اس کی مرضی پوچھ تک نہین رہا بلکہ الٹا ان کی تین سالہ مزاحمت کا تمسخر اڑا رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران یوکرین والوں کا کہنا ہے کہ ان کے 45 ہزار شہری اور فوجی مارے گئے ہیں۔

یوکرین اور روس کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی زیلنسکی کے ساتھ بات چیت کے لیے کیف کا دورہ کر رہے ہیں۔  ایلچی کا یہ وزٹ سعودی عرب میں اعلیٰ امریکی اور روسی سفارت کاروں کی ملاقات کے ایک دن بعد ہو رہا ہے۔