ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں کاہنہ کے علاقے سے چھ سال قبل اغوا ہونے والی خاتون فوزیہ بی بی کی بازیابی سے متعلق کیس کی آج کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔ چیف جسٹس کی انتظامی امور کی مصروفیات کے باعث ان کی عدالت کے تمام کیسز کی کاز لسٹ منسوخ کی گئی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سائلہ حمیداں بی بی کی درخواست پر آج سماعت کرنا تھی ۔ لیکن چیف جسٹس کی انتظامی امور کی مصروفیات کے باعث ان کی عدالت کے تمام مقدمات کی کاز لسٹ منسوخ کردی گئی ، گزشتہ سماعت پر عدالت نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو حکم دیا تھا کہ مغوی خاتون کی بازیابی 18 ستمبر تک یقینی بنائی جائے۔ عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں ایک 9 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دے رکھی ہے، جس میں سپیشل برانچ، سی سی ڈی، انویسٹیگیشن، آپریشن اور آئی بی کے افسران شامل ہیں۔اس کیس میں آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ایڈیشنل آئی جی شہزادہ سلطان ، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، گزشتہ سماعت پر عدالت نے مغوی خاتون کی بازیابی سے متعلق پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا اور گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے "میرا پیارا" ایپ کو فعال کرنے کا حکم دیا تھا۔درخواست گزار خاتون حمیداں بی بی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی بیٹی فوزیہ بی بی کو جن اٹھا کر لے گئے تھے۔ فوزیہ بی بی کے اغوا کا مقدمہ 25 مئی 2019 کو تھانہ کاہنہ میں درج کیا گیا تھا، جس میں مغویہ کے شوہر اور ساس کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App