ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کیس کے ملزم کی عبوری درخواست ضمانت میں تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر ویڈیو کی فرانزرپورٹ طلب کرلی۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے زیادتی کے مقدمے میں ملوث ملزم کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی اور تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ ویڈیو کی فرانزک رپورٹ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کی جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ رپورٹ 7 اکتوبر تک لازمی طور پر جمع کروائی جائے۔تفتیشی افسر نے عدالت میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کی عمر 14 سال 9 ماہ ہے اور اس کے خلاف تھانہ صدر گجرات میں زیادتی کا مقدمہ درج ہے۔ افسر نے مزید بتایا کہ بچے سے زیادتی کی ویڈیو بھی موجود ہے۔دوسری جانب، ملزم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو متاثرہ بچے کے والد نے وائرل کی ہے، تاہم اس ویڈیو میں زیادتی ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے اس نکتے پر سوال اٹھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی والد اپنے ہی بچے کی نامناسب ویڈیو کو وائرل کرے؟سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود باجوہ نے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق زیادتی کی کوشش کی سزا بھی عمر قید ہے۔ وکیلِ ملزم نے موقف اختیار کیا کہ عبدالوَہاب خود بھی کمسن ہے، اس کی تاریخِ پیدائش 15 ستمبر 2010 ہے اور اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کی ضمانت کنفرم کی جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 7 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت دی کہ فرانزک رپورٹ لازمی طور پر پیش کی جائے۔