علی رامے:لاہور میں محدود سطح پر بسنت منانے کی تیاریاں، ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت سے متعلق سفارشات حکومت کو پیش کر دیں، بسنت فیسٹیول صرف دو روز کے لیے ہفتہ اور اتوار کو ہوگا۔
اندرون لاہور کے علاقوں میں محدود سطح پر بسنت کی اجازت تجویز دی گئی، شاہی قلعہ، موچی گیٹ، بھاٹی گیٹ اور رنگ محل زونز میں بسنت منانے کی تجویز سامنے آئی۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیرِ صدارت اہم اجلاس ہوا،بسنت کے لیے انتظامیہ نے محفوظ بسنت پلان تیار کرکے حکومت کو پیش کیا۔
تیز دھاتی، نائیلون اور کیمیکل ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، صرف کپاس یا نشاستے سے تیار شدہ ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی، ڈور اور پتنگوں پر بار کوڈ لازمی قرار دینا ہوگا۔
غیر رجسٹرڈ پتنگ فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، غیر محفوظ ڈور بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوگا۔
بسنت والے علاقوں میں موٹر سائیکلوں کے داخلے پر پابندی کی تجویز دی گئی، موٹر سائیکل سواروں کے لیے سیفٹی اینٹینا اور گلے کے کور کرنا لازمی ہوگا۔
مین سڑکوں پر سیفٹی نیٹس اور وائر پروٹیکشن سسٹم نصب کیا جائے گا، ہر بسنت زون میں پولیس، ریسکیو اور انتظامیہ کی خصوصی ٹیمیں تعینات ہوں گی۔
فیسٹیول ایریاز میں ہائی ڈیفینیشن سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے، انتظامیہ نے پتنگوں اور گڈہ کے محفوظ سائز بھی پیش کیا، 4 سے 6.5 گٹھی پتنگ، 1 سے 3 تاوا گڈہ تجویز کیا گیا۔
بڑی پتنگوں پر پابندی، صرف ہلکی پتنگیں اڑانے کی اجازت ہوگی، بسنت زونز میں خصوصی پولیس اور کنٹرول روم قائم ہوں گے۔
بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ اور خطرناک کھیلوں پر مکمل پابندی ہوگی، ضلعی حکومت اور پولیس کی مشترکہ نگرانی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔
قانونی پیچیدگوں کو دور کرنے کی بھی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، بسنت کی اجازت کا حتمی فیصلہ وزیر اعلی پنجاب کریں گی۔