سٹی42: پاکستان تحریک انصاف آج پاکستانی قومی کی حالیہ تاریخ کے اہم ترین مشاورتی اجلاس سے غیر حاضر ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہی۔ کل پی ٹی آئی نے قومی سلامتی کمیٹی کے آج ہونے والے خاص الخاص اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے 14 افراد کو نامزد کیا تھا جن میں پی ٹی آئی کا پارلیمنٹ میں موجود تقریباً ہر نمایاں لیڈر شامل تھا، آج پی ٹی آئی نے بتایا کہ وہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نہیں آ رہے۔
پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی نے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بانی سے پی ٹی آئی کے درجنوں لوگ ہر چوتھے روز ملتے رہتے ہیں۔ بانی نے جعفر ایکسپریس پر بی ایل اے کے دہشت گردوں کے حملے اور مسافروں کو یرغمال بنانے کی مذمت بھی نہیں کی۔
تحریک انصاف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات نہ کرائی تو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔ی ٹی آئی کے شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ سیاسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت پر یہ طے کیا گیا کہ جب تک بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا ۔ اس اجلاس کا تناظر جعفر ایکسپریس پر بلوچستان مین بی ایل اے کے دہشتگردوں کا حملہ، مسافروں کو یرغمال بنانا، نوشکی میں ایف سی قافلے پر خود کش حملہ، بنوں کینٹ پر خارجیوں کا خودکش حملہ اور ایسے کئی دیگر واقعات کا اوپر تلے ہونا ہے۔ پاکستان مین دہشتگردی کی سنگین وارداتوں مین چند ہی دنوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور تمام حملے افغانستان سے سپانسر کئے جا رہے ہیں۔
آج عسکری قیادت موجودہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کرے گی۔ اجلاس کو ابتدائی اطلاعات کے مطابق آج صبح گیارہ بجے ہونا تھا۔
ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس قومی اسمبلی ہال میں منعقد کیا جائے گا جس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر اور ان کے نامزد نمائندےشرکت کریں گے، متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
واضح رہے کہ پیرکو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے نام بھیجے تھے بعد میں پاکستان کی حالیہ تاریخ کی اس اہم ترین قومی مشاورت مین بیٹھنے سے انکار کر دیا۔