ویب ڈیسک: بلوچستان میں سرکاری ملازمین کی گرفتاریوں کے خلاف احتجاج نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں بلوچستان گرینڈ الائنس نے صوبہ بھر کے سرکاری اداروں اور تعلیمی مراکز میں غیر معینہ مدت کے لیے تالا بندی کا اعلان کر دیا ہے۔
اعلان کے بعد مختلف اضلاع میں سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں متاثر ہونا شروع ہو گئی ہیں، جبکہ احتجاجی ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ بھی تیز کر دیا گیا ہے۔
گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملازمین گزشتہ دو برس سے اپنے مطالبات اور حقوق کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں، تاہم ان کے بقول مسائل کے حل کے بجائے گرفتاریوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
الائنس نے اعلان کیا ہے کہ احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور 19 جون کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ بھی قائم کیا جائے گا۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر اور حکومتی قیادت بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا نوٹس لے اور ملازمین کے تحفظات کا حل نکالا جائے۔ ان کے مطابق احتجاجی سرگرمیوں، پریس کانفرنسز اور اجتماعات پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب الائنس کا مؤقف ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی میں شیلنگ کی گئی اور متعدد سرکاری ملازمین کو حراست میں لیا گیا۔
سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث عوامی خدمات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں، جبکہ طلبہ اور والدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ طویل احتجاج سے تعلیمی شیڈول اور تعلیمی سال پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔