سٹی42: خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور علی امین کے مخالف رہنماؤں کے درمیان سینیت الیکشن کیلئے امیدواروں کی لسٹ پر جنگ جاری ہے، مذاکرات ناکام ہوگئے۔
سینیٹ الیکشن کیلئے علی امین کے امدواروں کے خلاف کھڑے ہو جانے والے امیدواروں کو دستبردار کروانے کے لئے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور ککا دباؤ کام نہیں آیا، ازخود کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے امیدواروں نے بیٹھ جانے سے صاف انکار کر دیا۔
آج پشاور مین علی امین کے اپنے مخالف دھڑے کے ساتھ مذاکرات ہوئے۔ ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور ایک بھی امیدوار الیکشن سے پیچھے نہیں ہٹا۔
ذرائع نے بتایاکہ علی امین کے کھڑے کئے ہوئے امیدواروں کے خلاف کھڑے ہوئے امیدواروں میں عرفان سلیم، عائشہ بانو، ارشاد حسین اوروقاص اورکزئی شامل ہیں۔
آج جمعہ کے روز بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ ناراض سینیٹ امیدواروں کی وزیراعلیٰ سے ملاقات کروانے ل مین تو کامیاب ہو گئے لیکن اس ملاقات سے ھاصل کچھ نہیں ہوا۔
مذاکرات میں ناکامی کے بعد کہا گیا کہ آج ہی رات 9 بجے "ناراض رہنماؤں" کی علی امین گنڈاپور سے دوسری ملاقات ہوگی۔
علی امین کے مخالف دھڑے کے امیدواروں کا کہنا ہے کہ علی امین اپنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی واپس لیں، ہم کسی صورت کاغذاتِ نامزدگی واپس نہیں لیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کے اتحادی مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، اے این پی کل رات سینیٹ انتخابات بلامقابلہ کرانے پر رضامند تھے، اس سکیم کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت اور مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، اے این پی، جے یو آئی وغیرہ سب صرف ان ہی امیدواروں کو کھڑٓ رکھین گی جو تمام نشتوں کے لئے درکار ہیں، باقی تمام امیدوار دستبردار ہو جائین گے اور تمام پارٹیوں کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔ اس سکیم کا مقصد سینیٹ الیکشن کے لئے ارکان اسمبلی کے ووٹوں کی خرید و فروخت کے خطرہ سے بچنا تھا، لیکن آج شب تک صورت حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے امیدوار زیادہ کھڑے ہیں اور وہ بیٹھنے پر آمادہ نہیں۔
یہ صورتحال برقرار رہی تو کوئی بھی پارٹی "بلامقابلہ سکیم" پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی اور سینیٹ کے الیکشن کا ووٹ ہوا تو علی امین کے امیدواروں کے ووٹ پی ٹی آئی کے ہی امیدوار توڑ لین گے جس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی تھی، ملاقات میں 5/6 فارمولے پر اتفاق ہوا تھا ، فارمولے کے تحت تحریک انصاف کو 6 اور اپوزیشن کو 5 نشستیں ملنا تھیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے باقی امیدوار دستبردار ہونا تھے۔