ملک اشرف : سوتن سے بچوں کی عدم بازیابی پر ڈی پی او گجرات ہائیکورٹ طلب کرلیا گیا ،عدالت نے ڈی پی او گجرات کو 21 جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ۔
جسٹس محمدامجدرفیق نے شہری خاتون سمیرا محمود کی درخواست پرسماعت کی، درخواستگزارخاتون نے سوتن سے دس سالہ بیٹی اور بارہ سالہ بیٹے کی بازیابی کیلئے ہائیکورٹ سے رجوع کیا، ایس ایچ او تھانہ صدر گجرات وارث علی نے رپورٹ پیش کی اوربتایا کہ سمیرا محمود پہلی جبکہ شبنم، محمد افضل کی دوسری بیوی ہے، درخواستگزارسمیرا محمود نے شوہرافضل سے ملکر سوتن شبنم کو فائرنگ کروا کرزخمی کروایا، شبنم بی بی نے سمیرا اور اسکے خاوند افضل کیخلاف اقدام قتل کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے، درخواستگزارسمیرا نے خاوند سے ملکر سوتن کو دباؤمیں لانے کیلئے اس پر دوبچے اغوا کرنے کا کیس کیا، محمد دل نواز اورسحر فاطمہ کے اغواء کا بے بنیاد مقدمہ بنایا گیا ہے،ایس ایچ او کے مطابق بچے شبنم بی بی کے پاس نہیں، عدالت نےایس ایچ اوکی رپورٹ پرعدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے21 اگست کو ڈی پی او گجرات کو طلب کرلیا۔