ویب ڈیسک:پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف)کے وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے کہا ہے کہ حکومت سولر میٹرنگ کے حوالے سے ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور کوئی ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آرہا،درست پالیسی فریم ورک میں تاخیر کرنے اور اس کے نتیجے میں ایک بڑا تنازعہ کھڑا ہونے پر حکومت خود اس کی ذمہ دار ہے ۔
پیاف کے وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن نے اپنے بیان میں کہا کہ پالیسیوں میں عدم تسلسل اور مختلف صارفین و سرمایہ کاروں کے لیے الگ الگ قوانین ہونا سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے، حکومتیں اکثر پالیسیوں کے تمام پہلوئوں پر گہرائی سے غور نہیں کرتیں، یہ صورتحال 1994 سے پاکستان کی بجلی کی پالیسیوں میں واضح طور پر نظر آ رہی ہے جس کا ثبوت آئی پی پیز ہیں ۔
راجہ وسیم حسن نے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے معاملے سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، جب لوگوں نے سولرز پر بھاری سرمایہ کر دی تو اس کی پالیسی کو یکدم تبدیل کر دیا گیا ہے ، اس طرح کے یکطرفہ فیصلوں اور پالیسیوں سے صرف سرمایہ کاروں کا نہیں عام عوام کا اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے جو حکومت کی اپنی ساکھ کے لئے بہتر نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران حکومتوںنے آئی پی پیزکے ساتھ مذاکرات کے تین ادوار کیے ہیں اور ہر بار معاہدوں میںتبدیلی کا بوجھ زیادہ تر مقامی سرمایہ کاروں پر پڑا جبکہ حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو چیلنج کرنے سے گریز کیا۔
وائس چیئرمین پیاف نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے آج خود کو دھوکہ دہی کا شکار محسوس کر رہے ہیں، یہ تقریباً ساڑھے4 لاکھ صارفین نسبتاًخوشحال طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے یہ صورتحال ایک مثبت پیش رفت نہیں ہے۔