سٹی42: پاکستانی کھلاڑی نے کبڈی کے میچ میں بھارتی ٹیم کا حصہ بن کر پاکستانی ٹیم کے خلاف کھیلا اور کھیل کے دوران کھلاڑیوں کو "چپیڑیں" ماریں، پاکستانی کھلاڑی نے بھارت کی یونیفارم پہنی اور بھارتی جھنڈا بھی کندھوں پر ڈالا۔
بھارت کے میڈیا نے اس سٹوری کو نمایاں شائع کیا کہ بحرین میں ہوئے کبڈی ٹورنامنٹ میں ایک مشہور پاکستانی کھلاڑی'ہندوستانی ٹیم' کی نمائندگی کر رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی کھیل سمیت زندگی کے ہر میدان میں روایتی مسابقت کے تناظر مین کوئی پاکستانی کھلاڑی کبھی کسی بھارتی ٹیم کا رکن بن کر پاکستان کے خلاف کھیلنے نہیں آیا۔ چھ سے نو مئی تک 90 گھنٹے کی پاکستان بھارت جنگ سے پہلے ہی بھارت کے کھلاڑیوں نے کھیل کے میدان میں پاکستان کا سامنا کرنے سے بھاگنا شروع کر دیا تھا اور تعصب کے اظہار کے لئے بھارتی کھلاڑیوں نے کرکٹ کے میدان میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ تک ملانا بند کر رکھا ہے۔ اس دوران پاکستان کے ایک مشہور کبڈی کھلاڑی نے بحرین جا کر بھارتی ٹیم کی یونیفارم پہنی اور بھارتی جھنڈا اٹھایا تو اس حرکت پر پاکستان میں شور مچ گیا۔
بھارت کے متعصب میڈیا آؤٹ لیٹس نے پاکستان کے اس کھلاڑی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور لکھا کہ وہ بڑی مشکل میں پھنس گیا. اور یہ کہ مشہور پاکستانی کبڈی کھلاڑی عبید اللہ راجپوت کو 16 دسمبر کو بحرین میں ایک "نجی ٹورنامنٹ" میں ہندوستانی ٹیم کی طرف سے کھیلنے کے بعد سخت تادیبی کارروائی کا سامنا ہے۔ پاکستانی کبڈی کھلاڑی بحرین میں 'بھارتی ٹیم' کی نمائندگی کرتے ہوئے شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہے۔

ایک مشہور پاکستانی انٹرنیشنل کبڈی کھلاڑی عبید اللہ راجپوت کو 16 دسمبر کو بحرین میں کبڈی کے مقبول ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ٹیم کے لیے پیش ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور پاکستان کی کبڈی فیڈریشن نے اس سے جواب طلبی کر لی ہے۔
عبید اللہ جی سی سی کپ کے دوران ہندوستانی ٹیم کا حصہ بن کر کھیلنے، ہندوستانی ٹیم کی شرٹ پہن کر میدان میں آنے اور ہندوستانی پرچم لہرانے کی ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد پاکستانی شہریوں نے اس کے اس حرکت پر تنقید کی۔ یہ تنقید بڑھی تو پاکستان کی کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری رانا سرور نے بتایا کہ کبڈی فیڈریشن نے اس معاملہ پر غور کرنے کے لئے "ہنگامی اجلاس 27 دسمبر کو" طلب کیا ہے.اس اجلاس میں رانا سرور کے مطابق عبداللہ اور کچھ دیگر کھلاڑیوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رانا سرور نے اعتراف کیا کہ بحرین میں ہونے والے کبڈی ٹورنامنٹ میں آرگنائزر نے "بھارت، پاکستان، کینیڈا، ایران وغیرہ "کے ناموں سے ٹیمیں تشکیل بنوائیں۔ تمام ٹیموں کے اپنے اپنے کھلاڑی تھے۔ ہندوستانی کھلاڑیوں نے ہندوستانی پرائیویٹ ٹیم کی نمائندگی کی اور عبید اللہ نے بھی بھارت کی ٹیم کے لیے کھیلا، جو ان حالات میں ناقابل قبول ہے۔"
کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ 16 پاکستانی کھلاڑی فیڈریشن یا پاکستان سپورٹس بورڈ سے اجازت لیے بغیر یہ کبڈی ٹورنامنٹ کھیلنے کے لئے بحرین گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کھلاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جنہوں نے پاکستان ٹیم کے نام سے جھوٹا کھیل کھیلا۔"