ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایرانی وزیر خارجہ کا کردستان میں ڈرون حملے کو ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دینے کا دعویٰ

ایرانی وزیر خارجہ کا کردستان میں ڈرون حملے کو ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دینے کا دعویٰ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کردستان ریجن کے وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کو ’ فالس فلیگ آپریشنقرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کا الزام ایران پر عائد کرنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

عراقی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ وزیراعظم مسرور بارزانی کے دفتر کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کا کوئی جواز نہیں، تاہم اس بات کا بھی کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ حملہ ایرانی سرزمین سے کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کرد رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فالس فلیگ کارروائیوں کے ذریعے پڑوسی ممالک کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے ماضی میں کرد عوام کو صدام حسین اور داعش کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کیا، جبکہ ایران اس بات کو سراہتا ہے کہ کرد خطے کے لوگ ایرانی سرحدوں پر سیکیورٹی برقرار رکھنے میں تعاون کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پیر کے روز عراق کے کردستان ریجن کے وزیراعظم مسرور بارزانی اور انٹیلی جنس چیف کی رہائش گاہ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ تاحال کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔