ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب میں گداگری کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری

پنجاب میں گداگری کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

عرفان ملک:پنجاب حکومت نے صوبے میں گداگری کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کی تیاری کرلی ہے اور ویگرنسی آرڈیننس 1958 میں اہم ترامیم کا مسودہ تیار کرلیا گیا ہے۔

مجوزہ ترامیم کے تحت بچوں سے بھیک منگوانے کے قانون میں عمر کی حد 14 سال سے بڑھا کر 16 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بچوں کو گداگری سے نہ روکنے والے والدین اور سرپرستوں کے خلاف بھی کارروائی کی شق شامل کرنے کی تجویز ہے۔

مسودے کے مطابق غفلت کے مرتکب والدین اور گارڈینز کو 3 ماہ سے 3 سال تک قید کی سزا دی جاسکے گی، جبکہ ان پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔

مجوزہ ترامیم میں ڈی جی سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کو پنجاب کا کنٹرولر آف ویگرنسی مقرر کرنے کی منظوری بھی شامل ہے۔ کنٹرولر آف ویگرنسی کو صوبے بھر میں گداگر مافیا کے خلاف آپریشنز کرنے اور گداگری میں ملوث افراد کی بحالی کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

حکام کے مطابق گداگری میں ملوث افراد اور گداگر مافیا کا مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے کارروائیوں اور بحالی کے عمل کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

ترمیمی بل کی منظوری کے بعد پنجاب میں گداگری کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔