سٹی42: پی ڈی ایم اے پنجاب نے دو دن میں دوسری مرتبہ راوی دریا میں سیلاب کر الرٹ جاری کر دیا۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے نئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں دریائے راوی میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
جسڑ کے مقام پر 55 سے 60 ہزار کیوسک پانی مسلسل دریائے راوی میں داخل ہو رہا ہے۔ دریا میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28 ہزار کیوسک ہے۔ یہاں پانی کی مقدار میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔
پی ڈی ایم اے نے راوی س کے کناروں پر موجود آبادیوں سے متعلقہ انتظامیہ کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایات بھیجی ہیں۔
دریائے راوی کے بیڈ میں اور اس دریا کے قریب بنی ہوئی آبادیوں سے شہریوں کے فوری انخلاء کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ راوی جن ضلعوں سے گزرتا ہے وہاں انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ راوی دریا کے بیڈ مین اور اس کے قریب وقع آبادیوں کی مساجد کے ذریعے اعلانات کروا کے ان آبادیوں کے شہریوں کو ممکنہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا جائے ۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کسی قسم کی کوتاہی نہ کی جائے۔
راوی دریا مین عام طور پر پانی تھوڑا ہوتا ہے۔ دریا کے بیڈ کے کچھ علاقوں کو بھی طویل عرصہ سے پانی نہ ہونے کی وجہ سے خالی تصور کر کے بعض لوگوں نے دریا کے بیڈ کو عام زمین سمجھ کر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ اب پی ڈی ایم اے بتا رہا ہے کہ دریا مین غیر معمولی صورتحال ہے، اس غیر معمولی صورتحال کو سمجھتے ہوئے شہری بھی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دریا کے بیڈ سے دور چلے جائیں۔
پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر سے نقصان سے بچا جا سکتا ہے، شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن سے بھی راہنمائی لے سکتے ہیں۔
1.5 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی آنے کا امکان ؛ مشرقی پنجاب میں راوی کے سیلاب کی وارننگ
چندی گڑھ میں سرکاری حکام نے بتایا ہے کہ ہماچل پردیش میں موسلادھار بارش نے پنجاب کے چھ اضلاع میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے، حکام نے خطرے سے دوچار علاقوں کے لیے تازہ الرٹ جاری کر دیا ہے۔
متاثر ہونے والے اضلاع میں ہوشیار پور، کپورتھلا، فاضلکا، فیروز پور، گورداسپور اور ترن تارن شامل ہیں، جہاں دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ اور عارضی پشتوں میں ٹوٹ پھوٹ نے تشویش پیدا کردی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ضلع گورداسپور میں صورتحال بدستور تشویشناک ہے کیونکہ مقامی انتظامیہ نے ایک تازہ الرٹ جاری کیا ہے، جس میں عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ دریائے راوی میں آج 1.5 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی آنے کی توقع ہے۔ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ علاقے میں ندی اور نالے مبینہ طور پر پوری صلاحیت سے چل رہے ہیں۔
جن دیہاتوں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے ان میں کنہ، چوونترا، چکری سلیچ، ادھی، زین پور، ٹھاکر پور، روزا، چندوادالہ، کمال پور جٹاں، ڈیرہ بابا نانک، دھرم کوٹ پتن، گرچک اور گھنی کے بیٹ شامل ہیں۔ انتظامیہ نے ان علاقوں کے مکینوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ضلع ترن تارن میں 90 ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کے بعد 'ہری کے ہیڈ ورکس' پر پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے۔
دریائے ستلج میں 1.12 لاکھ کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی گئی جس سے نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔
بھارتی پنجاب کی پڑوسی پہاڑی ریاست ہماچل پردیش کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ چند دنوں سے مسلسل بارش کی وجہ سے ڈیموں میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی روشنی میں، پنجاب کے آبی وسائل کے وزیر بیرندر کمار گوئل نے تفصیلی ٹیلی فونک بات چیت کے ذریعے کئی اضلاع میں موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔
انہوں نے فوری تخفیف کے اقدامات کو یقینی بنانے اور جان و مال کے تحفظ کے لیے سخت ہدایات جاری کیں۔
بیرندر کمار گوئل نے کہا کہ کپورتھلا، ہوشیار پور، گورداسپور، فاضلکا اور فیروز پور اضلاع سے گزرنے والی ندیوں کے پشتوں کے درمیان زمین کے اندر سیلاب جیسی صورتحال ہے۔
انہوں نے کہا کہ کپورتھلا، فیروز پور اور فاضلکا اضلاع میں تقریباً 14,200 ایکڑ رقبہ سیلابی پانی سے متاثر ہوا ہے۔
پنجاب کے وزیر نے واضح کیا کہ متاثرہ علاقوں میں، کپورتھلا ضلع کی متاثرہ زمین رہائشی بستیوں پر مشتمل ہے، جب کہ فاضلکا اور فیروز پور کے متاثرہ علاقے بنیادی طور پر زیر کاشت زرعی زمین ہیں۔ گوئل نے کہا کہ ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ دونوں متاثرہ آبادی کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے پوری طرح پابند ہیں۔
محکمانہ نگرانی کے انتظام کے نظام پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے، گوئل نے کہا کہ فیلڈ آپریشنز میں چار سپرنٹنڈنگ انجینئرز (SEs)، 10 ایگزیکٹو انجینئرز (XENs)، 20 سب ڈویژنل آفیسرز (SDOs) اور 200 فیلڈ اسٹاف ممبران انجینئرز بشمول جونیئرز کے ذریعہ مسلسل 24 گھنٹے نگرانی شامل ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فوری ردعمل اور مداخلت کے اقدامات کی سہولت کے لیے پورے خطرے سے دوچار خطے کو منظم طریقے سے سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
گوئل نے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ریلیف کیمپ قائم کریں تاکہ بے گھر آبادی کو پناہ، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی طرف سے بنائے گئے پشتے محفوظ ہیں اور ان پشتوں سے کوئی پانی اوور فلو نہیں ہوا ہے۔
"مضبوط روسٹر پر مبنی ٹیموں کی طرف سے ان پشتوں پر 24x7 سخت چوکسی رکھی جا رہی ہے،" انہوں نے کہا۔
انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو مزید ہدایت کی کہ وہ مویشیوں کی حفاظت اور بہبود کے لیے خصوصی انتظامات کریں جس میں علیحدہ پناہ گاہیں قائم کرنا، چارہ اور پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانا اور متاثرہ علاقوں میں ویٹرنری ٹیمیں تعینات کرنا شامل ہیں۔
کمزور گروہوں جیسے بچے، بزرگ افراد اور حاملہ خواتین کو ترجیحی طبی امداد ملنی چاہیے۔ پینے کے صاف پانی، موبائل ہیلتھ یونٹس اور ضروری ادویات کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔
گوئل نے ترن تارن اور فیروز پور کے ڈپٹی کمشنروں کو بھی ہدایت دی کہ وہ بالائی علاقوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے دریائے ستلج اور بیاس سے پانی کی آمد میں اضافہ کے پیش نظر ہری کے ہیڈ ورکس کی چوبیس گھنٹے ذاتی طور پر نگرانی کریں۔