سٹی 42 : افغانستان حکومت کے نمائندہ وفد کی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا سے ملاقات ہوئی۔
افغان وفد کی قیادت افغانستان کے قائمقام وزیر تجارت و صنعت حاجی نورالدین عزیزی کر رہے تھے۔ وفد میں افغانستان کے وزیر برائے مہاجرین و وطن واپسی، پاکستان میں افغانستان کے سفیر اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ملاقات میں ٹرانزٹ ٹریڈ اور افغان باشندوں کی وطن واپسی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان بردار اسلامی ملک ہے، پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان باشندوں کی بے لوث خدمت کی ہے، قانونی طور پر آئندہ بھی آمد پر کھلے دل سے خوش آمد کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ون ڈاکومنٹ رجیم کا مقصد ہے کہ کوئی بھی فرد بغیر قانونی دستاویزات کے پاکستان میں مقیم نہ ہو ، افغان بہن بھائی ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں، کوشش ہوگی کہ انہیں وطن واپسی میں ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ملک بھر میں اعلیٰ طبی و دیگر سہولیات سے آراستہ 50 سے زائد ٹرانزٹ کیمپ قائم کیے گئے ہیں، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے وزارت داخلہ اور متعلقہ صوبوں کے چیف سیکرٹریز کی نگرانی میں کمپلینٹ سیل قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کے ساتھ گہرا رشتہ ہے، ہماری کوشش ہے کہ ان کے بھائی چارے کا پورا حق ادا کر سکیں، پی او آر کارڈ کے حامل افغان باشندوں کو 30 جون تک کسی بھی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔ نائب وزیراعظم پاکستان کے سربراہی میں وفد افغان حکومت سے مذاکرات کیلئے جلد افغانستان کا دورہ کرے گا۔
افغانی قائمقام وزیر تجارت و صنعت حاجی نورالدین عزیزی نے اس موقع پر کہا کہ پچھلے چار دہائیوں سے افغان باشندوں کی مہمان نوازی پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ دوطرفہ سیکورٹی اور تجارت مضبوط سے مضبوط تر ہو ۔