نیب 20 سال پرانی بند فائلیں بھی کھول سکے گا،  ترمیمی ٹیکس آرڈننس جاری

old files pic of fbr
old files pic

 ویب ڈیسک : قومی احتساب بیورو (نیب) کو ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ۔صدر مملکت نے ٹیکس قوانین ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کردیے ۔

  رپورٹ کے مطابق صدارتی آرڈیننس کے بعد انکم ٹیکس آرڈیننس کا سیکشن 198 ختم کردیا گیا اور اب نیب 20 سال پرانی اور بند فائلیں بھی کھول سکے گا۔آرڈیننس کے تحت ٹیکس نیٹ میں اضافے کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو نادرا ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گی اور ایف بی آر کو نان فائلر کے موبائل فون اور یوٹیلیٹی کنیکشن منقطع کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں ٹیکس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے پر کم از کم 5 لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال کی سزا ہوسکے گی اور اراکین قومی اسمبلی اور سرکاری افسران کو ٹیکس کی تفصیلات ظاہر کرنے کا استثنیٰ بھی ختم ہوگیا۔آرڈیننس کے تحت نان فائلرز پروفیشنلز کے لیے بجلی کے بل کی مختلف سلیب پر 35 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے گا جبکہ کمپنیاں اور کارپوریٹ سیکٹر کو 25 ہزار روپے تک ڈیجیٹل ترسیلات کی اجازت ہوگی۔ تاہم پیپلزپارٹی نے صدارتی آرڈیننس مسترد کرتے ہوئے اسے اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا این او سی قرار  دیا ہے۔