سٹی42: پاکستان میں دہشتگردی کی وارداتوں میں ملوث بھارتی پراکسی خارجی گروہ کے خلاف جنگ میں مزید دس خارجی دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے دو انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے جن میںہمارے جوانوں نے بے جگری کے ساتھ کومبیٹ کارروائی کرتے ہوئے۔
گزشتہ چار روز کے دوران افغان طالبان کے حمایت یافتہ بھارتی پراکسی دہشتگرد گروہ کے 94 خوارج کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔
شمالی وزیرستان میں میر علی اور دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز نے دو الگ آپریشن کئے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہماری فورسز نے 16 اکتوبر کو ٹنگ کلی (دتہ خیل) میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ 3 زخمی ہوگئے۔
سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس پر ہماری فورسز نے 8 سے 10 روز تک علاقے کی بھرپور نگرانی کی اور 16 اکتوبر کو دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر کارورائی کی۔
ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں فتنہ الخوارج کا کمانڈر محبوب عرف محمد بھی شامل ہے۔ اس دہشتگرد کا مارا جانا چار دن میں ملنے والی ایک اور بڑی کامیابی ہے۔
دوسرے آپریشن کے دوران میر علی میں ایک خوارجی نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کے کیمپ کی دیوار سے ٹکرائی جو دھماکے سے پھٹ گئی، اس خودکش حملے کے ساتھ دھماکے کی آڑ لے کر تین مزید خوارجیوں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور دلیرانہ کاؤنٹر ٹیررزم کارروائی میں تینوں خوارجی کیمپ کے باہر ہی جہنم واصل کر دیئے گئے۔ الحمدللہ! ہماری سیکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔
گزشتہ 4 روز کے دوران افغان طالبان رجیم کے بھیجے گئے 94 خوارج جہنم رسید کیے گئے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان شاء اللہ، نیشنل ایکشن پلان کے تحت، آخری خوارجی ک دہشتگرد کے خاتمے تک افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے دفاع کے لیے یوں ہی ڈٹے رہیں گے۔