ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں پولیس ریکارڈ ظاہر کرنے کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ کا پولیس افسران پر اظہار ناراضگی

 کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں پولیس ریکارڈ ظاہر کرنے کا معاملہ ، لاہور ہائیکورٹ کا پولیس افسران پر اظہار ناراضگی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں پولیس ریکارڈ ظاہر کرنے کا معاملہ — لاہور ہائیکورٹ کا پولیس افسران پر اظہار ناراضگی ڈی آئی جی آئی ٹی کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری، اکیس اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم
  لاہور ہائیکورٹ میں کیریکٹر سرٹیفکیٹ میں پولیس ریکارڈ ظاہر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس حکام کے طرزِ عمل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آئی ٹی منصورالحق رانا کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا، جبکہ اے آئی جی آئی ٹی بلال محمود سلہری آئندہ سماعت پر طلب جبکہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین کو بھی آئندہ سماعت پر دوبارہ تازہ رپورٹ سمیت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔معزز عدالت کے روبرو پیشی کے موقع پر انکشاف ہوا کہ پولیس حکام نے عدالت کے نام پر ایک خط جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمات کے کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے لیے نیا فارمیٹ منظور کیا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ ہائیکورٹ نے ایسا کوئی فارمیٹ منظور نہیں کیا تھا۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے کہ “ہائیکورٹ کے نام پر جھوٹا خط جاری کرنا عدالت کی صریح توہین کے مترادف ہے۔ ایسے عمل سے عدالتی وقار مجروح ہوتا ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ڈی پی او منڈی بہاؤالدین نے نوٹیفکیشن واپس ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد جاری رکھا، جو سنگین غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس پر عدالت نے ڈی پی او سے دوبارہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔مزید برآں، عدالت نے آئی جی پنجاب سے ہدایت کی کہ وہ ایک سینئر پولیس افسر کے ذریعے تفصیلی رپورٹ پیش کریں، جس میں بتایا جائے کہ واپس لیا گیا خط اب تک کس طرح نافذ العمل ہے اور کس کے احکامات پر اس پر عمل جاری رکھا گیا۔عدالت نے تینوں پولیس افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے عدالتی حکم کی غلط تشریح یا من گھڑت تاثر کسی طور قابلِ قبول نہیں۔جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ریمارکس دیے: “عدالتی حکم کے نام پر غلط نوٹفکیشن کی تشہیر کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، ادارہ جاتی وقار پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے واضح کیا کہ معاملہ توہینِ عدالت کی کارروائی تک جا سکتا ہے، اور آئندہ سماعت پر تمام ذمہ دار افسران سے جامع وضاحت طلب کی جائے گی۔کیس کی مزید سماعت 21 اکتوبر 2025 کو مقرر کر دی گئی ہے۔

Ansa Awais

Content Writer