سٹی42: عمرہ پر گئے ہوئے زائرین کی بس آئل ٹیکنر سے ٹکرا گئی، بس میں سوار 45 زائرین بس کو آگ لگنے سے جھلس کر شہید ہو گئے۔
سعودی عرب کے مقدس شہروں مکہ اور مدینہ کے درمیان شاہراہ پر واقع قصبہ مفرحت کے قریب عمرہ زائرین کو لے جانے والی ایک بس آج پیر کی صبح ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا گئی۔سعودی عرب کی مؤقر نیوز آؤٹ لیتس میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق آئل ٹینکر سے ٹکر ہونے کے بعد آئل ٹینکر اور بس دونوں میں آگ لگ گئی،
اس کے اثر سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
بس میں ایسے عازمین عمرہ سوار تھے جن کا عمرہ عملاً مکمل ہو چکا تھا۔ وہ سب مکہ مکرمہ میں عمرہ کی عبادت مکمل کر کے زیادتِ روضہِ رسولﷺ کی غرض سے مدینہ منورہ جا رہے تھے۔
شہید ہونے والے تمام افراد بھارت سے گئے تھے،
شہید ہونے والوں کی تعداد پر اپ ڈیٹ
آج پیر کی صبح ہونے والے اس سانحہ کے متعلق سعودی میڈیا کی ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 42 ہندوستانی زائرین کے شہید ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
بعد کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً 45 افراد شہید ہوئے بس میں سوار مسافروں میں سے صرف ایک زندہ بچ گیا۔
متاثرین میں سے اکثر کا تعلق ہندوستان کی ریاست حیدرآباد/تلنگانہ سے ہے۔
یہ حادثہ دوپہر 1:30 بجے (IST) مفریہٹ کے قریب پیش آیا۔
فیڈ بیک اور سپورٹ
قونصلیٹ جنرل آف انڈیا، جدہ نے عمرہ زائرین کے سانحہ مین شہید ہونے والوں کے پسماندگان کو ضروری اطلاعات فراہم کرنے کے لئے فوری طور پر کنٹرول روم قائم کیا اور متاثرین کے اہل خانہ کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے۔ لیکن عملاً پسماندگان کو بتانے کے لئے صرف ایک افسوسناک اطلاع کے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے سانحہ کا شکار ہونے والے تمام زائرین بھارت کی وسطی ریاست تلنگانہ سے گئے تھے۔
تلنگانہ کی حکومت نے سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو پانچ لاکھ روپے فی کس ایکس گریشیا سپورٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔
شہید ہونے والوں کی میتوں کی منتقلی کے لئےبھارت کی وزارت خارجہ اور ریاض میں بھارتی سفارت خانہ سعودی حکام کے ساتھ قریبی رابطہ کر رہے ہیں۔
متاثرین کی شناخت مشکل ہے کیونکہ بہت سی باقیات بری طرح جل چکی تھیں۔ حکام شہید ہونے والوں کی شناخت کے لئے سفر کی، سانحہ کا شکار ہونے والی بس سے باہر متعلقہ اداروں میں موجود دستاویزات پر انحصار کر رہے ہیں۔
حادثہ کیسے ہوا
عمرہ زائرین سے بھری بس اور آئل ٹینکر میں تصادم کی وجہ ابھی بھی زیر تفتیش ہے: اس وقت ایک ٹینکر اور بس کیسے ٹکرا گئی، اور حفاظتی اقدامات کیا تھے، سعودی حکام اس کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پسماندگان کے خاندانوں کے لیے، بروقت معلومات، میتوں کی واپسی، اور زخمی بچ جانے والوں کی مدد فوری ترجیحات ہیں۔
آگے کیا کیا جا رہا ہے
بھارتی حکام کی جانب سے اس سانھہ مین شہید ہونے والوں کی سرکاری فہرست اب تک مرتب نہیں کی گئی۔
سڑک کے حالات، ٹینکر/بس کی حفاظت، ڈرائیور کی حیثیت، رات کے سفر کے خطرات کے بارے میں سعودی حکام کی جانب سے تحقیقات مکمل ہونے کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔
زخمیوں کی حالت اور ان کے علاج پر اپ ڈیتس کا تلنگانہ میں زائرین کے گھر والوں کو شدت کے ساتھ انتظار ہے، سعودی حکام صورتحال سے مکمل باخبر رکھنے کے لئے خصوصی کوششیں کر رہے ہیں۔
ہندوستانی حکام ( تلنگانہ ریاست کی حکومت) لواحقین کے لئے مالی امداد، میتوں کی جلد وطن واپسی، آخری رسومات، اور متاثرہ خاندانوں کی لاجسٹکس کے ضمن میں مدد کو سنبھالنے کے لئے انتظامات کر رہے ہیں۔ کو کس طرح سنبھالیں گے۔
سعودی عرب میں حجاج کے لیے سفری حفاظت سے متعلق اس سانحہ نے سنجیدہ سوالات پیدا کر دیئے ہیں۔ سعودی حکومت اور متعلقہ ادارے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے آنے والے لاکھوں افراد کو حادثات سے بچائے رکھنے کے لئے اپنے انتظامات کو مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہتے ہیں۔ اس روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد روڈ سیفٹی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔
